Best Life Notes

Best Life Notes

سٹوری آف بیسٹ لائف نوٹس

اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان کو بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے۔ بہت سی خوبیاں ایسی ہیں جن کا احساس اُسے خود بھی نہیں ہوتا۔ جوں جوں انسان کے علم میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ، پردے اُٹھتے چلے جاتے ، انسان خود کو پہچاننے لگتا ہے۔ انسان کے اندرجو اللہ کے راز ہیں ان سے پردہ اُٹھتا چلا جاتا ہے۔ کسی کو بولنے میں کمال حاصل ہوتا ہےتوکسی کو لکھنے میں۔ کسی کو شاعری میں کمال حاصل ہوتا ہے تو کسی کو مصوری میں۔کوئی موسیقی مقام پیدا کرتا ہے تو کوئی اداکاری میں۔ کوئی کھیل میں اپنا مقام بنا لیتا ہے تو کوئی ڈاکٹر یا انجینئر بن جاتا ہے، کوئی روحانی اور مذہبی بلندؤں تک جا پہنچتا ہے اور کوئی سماجی خدمت میں اپنا مقام چھوڑ جاتا ہے۔ کچھ لوگ ملکوں کی تاریخ بدل دیتے ہیں، کچھ لوگ نسلیں ہی بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ایک ہی انسان ہے بے بس اور لاچار، ایک ہی انسان ہے خود مختیار اور طاقتور۔ انسان جب اپنی صلاحیتوں پہچاننے لگتا ہے اور اپنے اندر چھپی ہوئی خوبیوں استعمال میں لاتا ہے تو دنیا میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جو لوگ اپنی صلاحتیوں کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہیں وہ ڈاکٹر ہوتے ہیں تو لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں، سماجی کارکن ہوتے ہیں اور غریبوں کے مدد گار اور غمگسار بن جاتے ہیں، صحافی ہوتے ہیں تو مسکینوں کی آواز بن جاتے ہیں، وکیل ہوتے ہیں تو لاچار لوگوں کی وکالت کرتے ہیں۔ سیاسی کارکن ہوتے ہیں تو ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ان لوگوں کا احترام اور مقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہوتا۔ جو لوگ اپنی صلاحتوں کو منفی انداز میں استعمال کرتے ہیں وہ ڈاکٹر ہوتے ہیں تو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، سماجی کارکن ہوتے ہیں اور غریبوں کے منہ کا نوالا بھی چھین لیتے ہیں، صحافی ہوتے ہیں تو مسکینوں پھٹے ہوئے کپڑے بھی اُتار لیتے ہیں، وکیل ہوتے ہیں تو وقت کے فرعون کی وکالت کرتے ہیں۔ سیاسی کارکن ہوتے ہیں تو مظلوم کے خلاف اور ظالم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ان لوگوں کاعدمِ احترام اور مقامِ ذلت بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہوتا۔ اللہ خود فرماتا ہے کہ اگر وہ نیک کرنا چاہتا تو سب کو نیک کر دیتا، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا کیوں کے اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے دنیا کھیل تماشے کے لیے نہیں بنائی یہ اس لیے کہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ ماریں اور وہ اس کا سر توڑ دے۔ پھر اللہ فرماتا ہے کہ ہم جس سے جو کام لینا چاہتے ہیں وہ لے لیتے ہیں۔ پھر اللہ یہ بھی فرماتا ہے، ہم جو چاہتے ہیں ، اور جیسے چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ لوگ برائی کی دلدل کی تہہ میں ہوتے ہیں، اللہ انہیں وہاں سے اُٹھاتا ہے اُن کی حالت درست کرتا ہے اور معاشرے میں ایسے مقام سے نوازتا ہے کہ بڑے بڑے نام والوں کو بھی وہ مقام نہیں ملتا۔ اللہ فقیر کو اُٹھاتا ہے تو وقت کا بادشاہ بنا دیتا ہے ، مزدوروں کو اُٹھاتا ہے تو کئی کمپنیوں کا مالک بنا دیتا ہے، جس کے تن پر کپڑا نہیں ہوتا اس کی ٹیکسٹائل ملیں لگ جاتی ہیں، جس کو ایک وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی اس کے کئی کئی ہوٹل کھل جاتے ہیں۔ یہ سب ہمارے سامنے ہو رہا ہوتا ہے، ہم دیکھتے بھی ہیں، ہم سمجھتے بھی ہیں، مگر ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ سب ہوا کیسے، راتوں رات، چند ماہ یا چند سالوں میں کوئی کتنا بدل سکتا ہے۔ جب اللہ کسی کے دل کو بدلتا ہے تو وقت کا حساب بے معانی ہو جاتاہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہدایت اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے ، جب اللہ کی طرف سے ہدایت آتی تو دیر نہیں لگتی اور جب نہیں آتی تو موت تک نہیں آتی۔ اللہ اپنی رحمت کی بات کرتا ہے کہ اس کی رحمت تو بارش کی طرح برس رہی ہے، ہر وقت اور ہر جگہ ۔ اُس رحمت صرف وہ دل مستفید نہیں ہوتا جو رجوع نہیں کرتا، حالانکہ بارش اس پر بھی ہوتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان دل رجوع کرے اور اللہ اُسے اپنی ہدایت سے فیض یاب نہ کرے۔ اس کی مثال بھی اللہ تعالیٰ بیان کرتاہے کہ دل بعض ایسے ہوتے ہیں کہ پتھر یا پھر اس سے بھی سخت، اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں اور اور بعض ایسے ہوتے ہیں کے اللہ کے خوف سے پھٹ پڑتے ہیں اور ان میں چشمے پھوٹ نکلتے ہیں۔ دل بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نرم اور ذرخیرز مٹی کہ طرح کہ ان پر ہلکی سی بارش بھی پڑے تو سر سبز و شاداب ہو جائیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے بانجھ، بنجر اور مردہ زمین، کہ اس پر جتنی بھی بارش برسے کبھی کچھ نہیں اُگتا اور اگر کچھ اُگے بھی تو گلی سڑی گھاس۔ پروفیشنل کیرئیر کونسلنگ ، اعزازی لیکچرز میں بھی ہم یہی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی چھپی ہوئی صلاحتیوں کو باہر لائیں تاکہ وہ اپنی پوشیدہ صلاحتوں کو بروئے کار لا سکیں اور وہ کر کے دیکھائیں جو باظاہر انہیں لگتا ہے کہ ان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جہاں ہم اسلامی حوالوں سے بات کرتے تھے وہیں اپنے تجربات، اپنے سینئرز کے مشاہدات ، اپنے ٹیچرز اور پروفیشنل لائف میں سینئزز سے سیکھی ہوئی باتیں بھی شئیر کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ملا، بہت سے ایسے لوگ ملے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ علمی دولت سے نوازا تھا۔ اللہ کیوں کہ سبب الاسباب ہے، وہ علم کے وسیلے پیدا کرتا رہتا ہے اور جن لوگوں تک چاہتا ہے اپنے علم کی روشنی پہنچا دیتا ہے۔ میرے دل میں علم کی جو شمع روشن کر دی گئی، اب میری کوشش اور خواہش ہے کہ اِسے امانت سمجھ کر دوسرے لوگوں کے دلوں کو بھی روشن کیا جائے۔ میرے اکثر لیکچرز اوپن لیکچرز ہوتے تھے جن کا کوئی پہلے سے طے شدہ فارمیٹ نہیں ہوتا تھا، بہت سے ٹاپکس پر بات ہوتی تھی جن میں لوکل اور انٹرنیشنل جاب ماریکٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، بزنس اینڈ پروفیشن، بینکنگ اینڈ فنانس، انٹرنیشنل ریلیشن، پاک چائنہ ریلیشن، گوادر اینڈ سی پیک، لائف سکیل ، کپیسٹی بلدنگ کسٹم ٹرینگ وغیرہ وغیرہ۔ اکثر یہ فرمائش رہتی تھی کہ میرے لیکچرز کا حوالہ ڈیجٹل یا پرنٹ فارمیٹ میں مل جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ فرمائشیں بڑھتی گئیں تو ایک دن ارادہ بھی کر لیا کہ کچھ مرتب کر لیا جائے۔ جب میں نے لکھنا شروع کہ کب کہاں اور کس سے کیا سیکھا تو میرے اندازے کے مطابق زیادہ سے زیادہ ایک کتاب کا مواد معلوم ہوتا تھا۔ مگر قلم تھا کہ رکُا نہیں اور بیسٹ لائف نوٹس کی کولیکشن بڑھتی ہی چلی گئی۔ بیسٹ لائف نوٹس ایک اوپن پلیٹ فارم میں تبدیل ہو گیا، پہلے تو میں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا (جو کہ حیات تھے) اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا تھا۔ جو وفات پا گئے تھے انہیں اپنے الفاظ میں پھر سے زندہ کر لیا۔ اپنے حلقہ احباب میں اس کام کو بڑھایا تو لا تعداد نوٹس ملنے شروع ہو گئے۔ بیسٹ لائف نوٹس کا ایک ہلکا پھلکا سا فارمیٹ ہے ، ہر طرح کے نوٹس شامل نہیں کئے، ہر ممکن کوشش یہ رہی کہ کسی بھی قسم کا غیر میعاری نوٹ نہ لگایا جائے اور نہ ہی بہت لمبے نوٹس بنائے جائیں اور نہ کی بہت مشکل نوٹس جمع کئے جائیں بلکہ عام فہم روز مرہ کی خوبصورت باتیں جس سے عام انسان کی زندگی میں تھوڑی بہت تبدلی لائے جا سکے ۔ بیسٹ لائف نوٹس اب ایک وے آف لیونگ کی طرح محسوس ہوتا ہے ہر روز کئی طرح کے خوبصورت نوٹس موصول ہوتیں ہیں، پڑھ کر بہت انرجی اور سکون ملتا ہے اور اس طرح نوٹس کی کولیکشن بھی بڑھتی رہتی ہے، علم میں اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے، اور اس کے شئیرنگ بھی ہوتی رہتی ہے۔ دوستوں سے اسی بہانے ایک رابطے کا سلسلہ بھی رہتا ہے، ان کی رائے سے بھی مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اب تک بسٹ لائف نوٹس میں 100 سے زیادہ لوگ اپنا کم یا زیادہ حصہ ڈال چکے ہیں

بیسٹ لائف نوٹس کو پڑھنے اور پسند کرنے کا بہت شکریہ ، یقینا آپ کی زندگی کو بہتر باننے میں بہت سے لوگوں نے اپنا حصہ ڈالا ہوگا، کچھ تجربات ایسے ہوں گے جو آپ کبھی بھلا نہیں سکے ہوں گے، کچھ مشاہدات ایسے ہوں گے جنہوں نے آپ کی زندگی کو یکسر بدل دیا ہو گا، کچھ باتوں کی نصحیت آپ کو آپ کے والدین اور اساتذہ سے ملی ہو گی اور بہت کچھ آپ نے اپنے ایجوکیشنل اور پروفیشنل لائف سے سیکھا ہو گا، جسے آپ سمجھتے ہوں کہ عام لوگوں تک اور ہماری نوجوان نسل تک پہنچنا چاہیے۔ تو ضرور لکھیں، آپ کے تجربات ، آپ کی لرننگ آپ کے نام سے میرے سفر کا حصہ بنے گی۔ کیا پتا کہاںکس کی زندگی تبدیل ہونے کے لیے آپ کے چند الفاظ کا ہی انتظار کر رہی ہو۔ اور آپ کی تھوری سی کوشش کو وسیلے کو طور پر قبول کر لیا جائے۔ جس طرح ہم پر علم کا حصول فرض ہے اسی طرح اُسی علم کو لوگوں کی فلاح اور اصلاح کے لیے آگے بھیجنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ اسی طرح کا کچھ فرض میں نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے، آپ بھی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ میری اور آپ کی محنت قبول فرمائے اور آپ کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے اور لوگوں کو ہماری اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ امین، آباد رہیں۔ آپ سب کا ممنون اور آپ سب کے لیئے دعا گو!!

میاں وقارالاسلام

بیسٹ پروفیشنل آیوارڈ

نیازی گروپ آف کمپنیز، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2016

بیسٹ لیٹریری آیوارڈ

ادب سرائے انٹرنیشنل، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2017

انٹرنیشنل مارکیٹنگ مینیجر

ال دوسر انٹرنیشنل کمپنی لمٹیڈ

موبائل 0563862924

www.mianwaqar.com ویب سائٹ

فیس بک پیج لنک:

https://www.facebook.com/bestlifenotes

ڈاؤن لوڈ پی ڈی ایف کاپی:

http://mianwaqar.com/be…/MS%20Best%20Life%20Notes%202017.pdf
mianwaqarpk@yahoo.com ای میل