INTERVIEW

INTERVIEW

AN EXCLUSIVE INTERVIEW WITH MIAN WAQAR UL ISLAM

انٹرویو میاں وقارالاسلام

پرنسپل کنسلٹینٹ مارول سسٹم

ڈائیرکٹر آپریشنز نیازی گروپ آف کمپنیز

 ایڈوائزر ادب سرائے انٹر نیشنل

www.mianwaqar.com | www.marvelsystem.com

1۔آپ کا پورا نام؟

میاں وقارالاسلام

2۔کوئی قلمی نام؟

نام تبدیل نہیں کیا

3۔کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

17 جنوری   1978 کو میری پیدائش  ایک ایسی فیملی میں جہاں اقدار اور اصولوں کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی تھی جس کی وجہ سے  مجھے ہمیشہ  اپنی فیملی کا تعارف کرواتے ہوئے  فخر محسوس ہوتا ہے۔ میرا تعلق تحصیل میلسی،  ضلع وہاڑی کی ایک سرائیکی آرائیں  فیملی سے ہے ۔ ہمارے اکثر رشتہ دار بنیادی طور پر زراعت کے پیشہ سے منسلک  ہیں۔  ہماری زیادہ تر زمینیں اپنے آبائی علاقہ جلہ جیم میں ہیں۔

4۔تعلیمی قابلیت؟

ماسڑ آف بزنس ایڈمنسٹریشن

5۔ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ابتدائی تعلیم اپنے  مقامی شہر میلسی کے گورنمنٹ پرائمری سکول میلسی سے حاصل کی، اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد سی کام اور ڈی کام  گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے مکمل کیا۔  ریگولر ایجوکیشن کی مکمل تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

6۔اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

انٹرنیشنل سکول آف مینجمنٹ سائنسز  (آئی ایس ایم ایس)،نیوپورٹ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، یو ایس اے    (لاہور کیمپس، پاکستان) سے  3/1998 – 12/1999  میں ماسڑ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ( مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم) کی ڈگری حاصل کی۔ 98-3  کے بیج میں/4.0  3.52 جی پی اے کے ساتھ اور فائنل ٹرم ، ایم آئی ایس میں  4.0/ 3.89 جی پی اے کے ساتھ نمایاں پوزیشن حاصل کی۔

 بہاؤدین زکریا یونیورسٹی، ملتان،کامرس ملتان پاکستان گورنمنٹ کالج سے 3/1996 – 3/1998 میں  بیچلر آف کامرس (مارکیٹنگ) کی ڈگری حاصل کی۔ (مارکیٹنگ اور سیلز پروموشن میں گروپ پوزیشن ہولڈر رہا)

کیریئر سرٹیفکیشنز: 2001/10 مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل (ایم سی پی)ونڈوز 2000 ایڈوانس سرور کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

2000/ 8   میں  انٹرنیٹ سروسس پرووائڈرز (آئی ایس پی) سیٹ اپ  میں لینکس ریڈ ہیٹ کے ساتھ (کاروٹ سسٹم ،  لاہور کیمپس سے پروفیشنل سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

2000/ 6  میں سسکو سرٹیفائیڈ  نیٹ ورک ایسوسی ایٹ (سی سی این اے) ، سیکنڈ اور تھرڈ لیئر سسکو ڈیوائسس پر ہینڈز آن پریکٹس کے ساتھ سسکوکا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

 999/ 8  میں    انگلش لینگویج  سرٹیفکیٹ  (  جو برٹش کونسل  اور  نیوپورٹ یونیورسٹی کے زیر اہتمام تھا) حاصل کیا۔

7۔پیشہ؟

میں ایک پروفیشنل مینجمنٹ کنسلٹنٹ  ہوں اور گذشتہ کئی برس سے  مختلف سیکڑز میں اپنی خدمات سر انجام دے چکا ہوں جن میں پبلک پے فون سسٹم، پبلک ایڈریس سسٹم، پبلک سرویلنس سسٹم ، پاور ڈائیگنوسٹک سسٹم ، برڈ ر رپیلنٹ سسٹم، ٹرانزٹ میڈیا سسٹم، پبلک ڈسپلے سسٹم ، ملٹی پرپز ایلیویٹرز اینڈ لفٹرز، ملٹی پرپز سیکورٹی ڈورز، بیریرز اینڈ ٹرنسٹائلز ، مارکیٹ سروے، مارکیٹ ریسرچ،  کارپوریٹ ٹریننگ اینڈ ایچ آر ڈیویلپمنٹ، وومن ایمپاورمنٹ، چائلڈ لیبر، مائیکرو فنانس، لارج فارمیٹ پرنٹنگ، فارمیسی، ریئل اسٹیٹ، ٹرانسپورٹیشن اینڈ لاجسٹکس وغیرہ  اہم ہیں۔ بڑے کاروباری اداروں میں نئی ​​ٹیکنالوجیز متعارف کراونے کا ایک کامیاب  ٹریک ریکارڈ ہے، جن میں کئی ملٹی ملین ڈالرز پراجیکٹس شامل ہیں۔دنیا بھر کی  متعددمعروف  کمپنیوں کی جدید ایجادات  پر ریسرچ بھی کی ہے۔ پاکستان کے لیے بہت سی بین القوامی کمپنیوں کی نمائندگی بھی حاصل کی اور پاکستان میں  ان کے پراڈکٹس اور ٹیکنالوجیز کو متعارف بھی کروایا۔ بہت سی ایگزیبیشنز میں بھی حصہ لیا جن میں  ، گوادر فرسٹ انٹرنیشنل یگزیبیشن 2018،  جدہ  کیریئر ایگزیبیشنز ، صنعتی ایگزیبیشنز ، پاور اینڈ انرجی ایگزیبیشنز ، پراپرٹی  ایگزیبیشنز ، ایجوکیشنل ایگزیبیشنز ، پاک چین ایگزیبیشنز ، پاک بھارت ایگزیبیشنز ، اور آرٹ اینڈ کلچرل ایگزیبیشنز  وغیرہ شامل ہیں۔ انٹرنیشنل ایگزیبیشنز میں شرکت کے لیے کمپنیز کوباقاعدہ کنسلٹنسی بھی فراہم کی۔گوادر، مری لاہور، اسلام آباد، ملتان اور دیگر علاقوں کے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس کو پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور یورپ  اور دیگر ممالک میں انٹرنیشنل مارکیٹنگ نیٹ ورک کے ذریعے متعارف بھی کروایا اور پاکستان میں کئی ملین ڈالرز کی انوسٹمنٹ کروائی۔ کئی کاروباری سیمینارز، ورکشاپس، نیو پراڈکٹ لانچ،  سی ای او فورمز  وغیرہ کا   بھی اہتمام کیا۔ پریس ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے لئے  کور سٹوریز، میڈیا  رپورٹس،  انٹرویو ز اورسکرپٹ  وغیرہ بھی لکھے۔

8۔ اہم سنگ میل

2017ITRP انڈسٹریل ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2016 CPEC پاک چائنہ اکنامک کوریڈور ریسرچ پروگرام
2015 SWRP سولراینڈ ونڈ انرجی ریسرچ پروگرام
2014 HMRP ہوم لینڈ سیکوریٹی ریسرچ پروگرام
2013 HTRP ہولو گرافیکس ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2013 SPRP سیکوریٹی پرنٹنگ ریسرچ پروگرام
2012 ALSP ایگریکلچرل اینڈ لائیو سٹاک ریسرچ پروگرام
2011 CSRP کیمونیٹی سکیلز ریسرچ پروگرام
2010 SFRP سی فوڈ ریسرچ پروگرام
2010 AERP الٹرنیٹ انرجی ریسرچ پروگرام
2009 FFRP پری فیبرک سٹیل سٹرکچر زریسرچ پروگرام
2008 MCRP میڈیا سٹی ریسرچ پروگرام
2007 TMRP ٹرانزیٹ میڈیا ریسرچ پروگرام
2007 GPRP گوادر پورٹ ریسرچ پروگرام
2006 HRRP ہیومن ریسورس روبوٹکس ریسرچ پروگرام
2005 PSRP پبلک سرویلینس ریسرچ پروگرام
2005 MSRP مائیکرو فنانس ریسرچ پروگرام
2004 SDRP سوشل ڈیویلوپمنٹ ریسرچ پروگرام
2004 GTRP گرافکس ٹیکنالوجیز ریسرچ پروگرام
2003 CLRP سائبر لاء ریسرچ پروگرام
2003 IFMS انٹرنیشنل فرنچائزنگ منیجمنٹ سسٹم
2003 WTRP وائرلیس ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2002 ASRP ایڈوانس سرور ریسرچ کے پروگرام
2001 USCS یونیورسلی سسٹین ایبل کمپیوٹر سویٹ
2000 MAP مئیرمنٹ آف ایڈجسٹ ایبل پرسنیلیٹی
1999 PPMS پبلک پے فون مینجمنٹ سسٹم

9۔ ادبی سفر کا اآغاز کب ہوا؟

میری گُم نام شاعری کا آغاز تو شاید میرے ہوش سنبھالتے ہی میرے لاشعور کے کسی کونے میں ہو چکا تھا۔ یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ جواں ہوتے احساسات اور جذبات میں رنگتا گیا۔ 1993 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز  کیا، اُس وقت میری عمر تقریباِ  16 سال کے لگ بھگ تھی اور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔

10۔اگر آپ شاعر ہیں تو نظم اور غزل میں کس شاعر سے متاثر ہوئے؟

ادب کی دنیا بہت وسیع ہے ، ادب کے آسمان پر ان گنت ستارے ہیں، ہر ستارہ اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہے ، جسے دیکھیں اس کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔  اٹھارویں صدی سے شرو ع کریں تو میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی،  مرزا اسد اللہ خاں غالب،  محمد ابراہیم خان، ذوق اور بہادر شاہ ظفر جیسے بڑے نام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انیسویں صدی میں جھانکیں تو  امیر مینائی، داغ دہلوی، الطاف حسین حالی،  شبلی نعمانی، اکبر الہ آبادی،  حسرت موہانی، جگر مراد آبادی اور جوش ملیح آبادی جیسے نام نظر آتے ہیں۔  آگے چلتے ہیں تو فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، استاد دامن، حبیب جالب، ناصر کاظمی، منیر نیازی، مصطفیٰ زیدی ، احمد فراز، کشور ناہید، غلام محمد قاصر، پروین شاکر، ثمینہ راجہ، نوشی گیلانی  اور ڈاکٹرشہناز مزمل جیسے کئی نمایاں نام  نظر آتے ہیں،  کس کا نام رکھیں اور کس کا چھوڑ دیں، ادب کے آسمان میں سب کا اپنا اپنا مقام ہے۔    نئے لکھنے والے ادب کے نئے افق تلاش کر رہے ہیں۔

 11۔کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟

ڈاکٹر شہناز مزمل کی رہنمائی ہر موڑ پر حاصل رہی ہے۔

12۔ادب کی کونسی صنف زیادہ پسند ہے؟

نثر ی ادب میں ناول، افسانہ، تنقید، کالم، نثر، کہانی، ڈراما، فلم، پیروڈی، سفرنامہ اورسوانح حیات وغیرہ سب کا اپنا مقام اور اپنی اہمیت ہے۔ اسی طرح  شاعری میں چند اصناف نظم، نثری نظم، نظم معری، آزاد نظم، غزل، گیت، شعر، قطعہ، رباعی، سہرا، مسدس، مخمس، لوری، ڈوھڑا (صرف سرائیکی میں)، ، کافی، قصیدہ، نعت، حمد،مرثیہ،  وغیرہ سب کی اپنی اپنی اہمیت اور اپنا اپنا مقام ہے۔ آج کل جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہم تک ادب کی رسائی خاصی آسان ہو گئی ہے۔ ادب بھی علم کے خزانوں میں سے ایک خزانہ  ہے اور خزانہ جیسا بھی ہو خزانہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی صنف کسی سے کم نہیں ، ادب کا کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں۔ ادب تو پھر ادب ہے، بعض دفعہ کوئی عام سے بات جو کہ کسی بھی ادبی صنف کی پابند نہیں ہوتی، دل میں گھر کر سکتی ہے، بات میں جان ہونی چاہیے ، بات اپنا رستہ خود بنا لیتی ہے۔ میں ادب کو اصناف میں تقسیم کر کے نہیں دیکھتا ، میں ادب میں جمعیت کا قائل ہوں ، اچھا کام کسی بھی صنف میں ہو انسان پسند کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔

13۔ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

نثر ی ادب میں اسلامی و مذہبی مضمون،  تنقید، کالم، انٹرویوز، سکرپٹ، ریسرچ پیپرز ،نثر، کہانی، پیروڈی، سفرنامہ اورسوانح حیات وغیرہ   اور شاعری میں نظم، نثری نظم ، آزاد نظم، غزل، نعت اور حمدوغیرہ پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔

14۔شعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

میری پہلی  کتاب کا نام “من کٹہرا “تھا جو سال9 200   میں منظر عام پر آئی ۔ کتاب کی رو نمائی ہوٹل سن فورٹ لاہور میں ہوئی اور پروگرام کی صدارت ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ نے کی۔  میری دوسر کتاب کا نام “مثلِ کلیات”تھا  جو 2014 میں مکمل ہوئی۔ میری تیسری کتاب کا نام “شہرِ داغدار” ہے جو کہ 2016 میں مکمل ہوئی ہے۔ میری چوتھی کتاب جو کہ ابھی زیرِ طباع ہے اس کا نام “سوزِ محشر ” ہے۔  “مثلِ کلیات ریسرچ  پبلیکیشن ”  محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی 30 کتابوں سے شاعری کا ایک مجموعہ ہے۔ “مثلِ کلیات”   میں ڈاکٹر شہناز مزمل کی شاعری  کے علاوہ  ان کے ساتھ اور ادب سرائے  انٹرنیشنل (دنیا میں معروف اردو ادبی فورم)  کے ساتھ میرا  15 سالہ ادبی سفر نامہ بھی ہے ۔ میری تین کتابیں:  1۔”من کٹہرا” 2۔” شہرِ داغدا ر”  اور 3۔ “سوز محشر ” تینوں مل کر  ایک عظیم تصور “اسلامک وے آف لائف”  کو بیان کرتی ہیں۔  “من کٹہرا”   ہمارے خود کو سمجھنے کے بارے میں ہے کہ ہم کس طرح بنائے گئے ہیں۔ “شہرِ داغدار” ہماری کائنات کے بارے میں  ہے کہ کس طرح کائنات تخلیق ہوئی ہے۔ “سوزِ محشر”  قیامت کے دن کے بارے میں ہے کہ زندگی کے بعد کیا ہو گا۔ مزید یہ کہ یہ تینوں کتابوں بالترتیب ” نفسِ امارہ” ، “نفسِ لوامہ ” اور نفس متمعئنہ  پر بھی بات کرتی ہیں۔

وقارِ سخن  ریسرچ پبلیکیشن سیریز

وقارِ سخن نے نام سے میری ایک اور ذیر طبع ریسرچ پبلیکیشن سیریز ہے جس میں   500 سے زیادہ شعراء اور شاعرات کے سخن پارے اور مختصر تعارف شامل ہے اس سیریز کی 3 جلدیں مکمل ہو چکی ہیں اور باقی جلدوں پر کام جاری ہے۔

15۔نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

الف: بیسٹ لائف نوٹس  ۔   ریسرچ پبلیکیشن سیریز

اردو کی  شاعری کی کتابوں  کو علاوہ  میری ایک اردو کتابوںسیریز بھی ہے جس کا نام ہے “بیسٹ لائف نوٹس  ریسرچ پبلیکیشن سیریز “

بیسٹ لائف نوٹس اپنی نوعیت کا ایک منفرد کتابی سلسلہ ہے۔ ان کتابوں  میں میری زندگی کے بہترین نوٹس کی کولیکشن ہے۔ کچھ نوٹس قرانِ مجید کے بارے میں ہیں یعنی جب میں قران پہلی دفعہ پڑھا تو کیا محسوس کیا اور بار بار پڑھنے کے بعد کس نتیجے پر پہنچا۔ پھر کچھ نوٹس حضرت محمدؐ کی ذاتِ اقدس کے حوالے سے ہیں، کچھ انؐ کی زندگی کے اہم پہلوؤں پر اور کچھ انؐ کے آخری خطبہ کے بارے میں۔

اسی طرح قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی کے کچھ اہم واقعات پر کچھ نوٹس میں اور کچھ علامہ اقبال ؒ کی زندگی کے حالات و واقعات پر شامل کیا ہے۔ پھر کچھ مولانا رومی کی حکایتیں اور کچھ دیگر مثالیں وغیرہ جن سے زندگی کے رہنما اصول ڈھونڈے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایک واقعہ مرحوم اشفاق احمد صاحب کی کتاب زاویہ سے بھی لیا گیا ہے۔

کچھ نوٹس میرے پروفیشن اور بزنس کے حوالے سے ہیں ، جو میں نے مختلف شخصیات کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کے دوران قلم بند کئے تاکہ انہیں مزید لوگوں کی رہنمائی کے لئے سامنے لایا جا سکے۔ اسی طرح کچھ نوٹس کا تعلق میرے ادبی اور تعلیمی سفر سے ہے ، جو آج بھی میری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔

کچھ نوٹس کا تعلق پاکستان کے تاریخی، معاشی اور سیاسی پس منظر سے ہے۔ جن میں گوادر سی پورٹ، پاک چین اکنامک کوریڈور، پاک چین سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات اور پاکستان کے موجودہ اور مستقبل کے اہم ترقیاتی منصوبوں وغیرہ کی تفصیل شامل ہے۔ ان میں سے اکثر نوٹس ، میری گوادر سے متعلقہ اہم پبلیکیشنز سے ہے۔

بیسٹ لائف نوٹس میں 100 سے زیادہ لوگ اپنا کم یا زیادہ حصہ ڈالا  ہے۔بیسٹ لائف نوٹس کی 10 جلد یں مکمل ہو چکی ہیں ۔

ب: گوادر سے متعلقہ پبلیکیشنز

 اردو کی کتابوں کے علاوہ میری  10 دیگر کتابیں ہیں، جن میں  9 گوادر “نیوز بکس”  شامل ہیں اور ایک گوادر “ہینڈ بک” شامل ہے۔  یہ کتابیں  150 سے زیادہ نیشنل اور انٹرنیشنل نیوز پیپرز سے نیوز کا تحقیقی مجموعہ ہے۔ نیوز کولیکشن کا تعلق براہ راست گوادر کے تمام میگا پراجیکٹس  اور  گوادر ڈیپ سی پورٹ سے ہے۔  علاوہ ازیں چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق بھی بہت سی نیوز شامل ہیں۔” گوادر ہینڈ بک”  میں ضلع گوادر کی اہم معلومات  گوادر پورٹ کی تفصیلات، اہم پراجیکٹس، گوادر کا تصویری سفر ، اہم نقشاجات، اہم اقدامات، اہم بیانات اور گوادر میں مستقبل کے منصوبوں کا احاطہ وغیرہ سب شامل ہے۔

16۔اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیے؟

آباؤ اجداد کی تاریخ:  ہماری معلومات کے مطابق ہمارے آباؤ اجداد کی تاریخ حکیم میاں جلال الدین لاہوری سے شروع ہوتی ہے۔  حکیم میاں جلال الدین لاہوری، مغلیہ سلطنت کے سرکاری حکیم تھے ، اس کے علاوہ مغل سلطنت کے سیاسی اور مذہبی مشیر بھی تھے۔  شہنشاہ  محمدجلال الدین اکبر تیسرا مغل شہنشاہ  تھا ۔ جب اس نے 1582ء میں دینِ الہٰی  متعارف کرایا تو مختلف مسلم علماءکرام کے ساتھ حکیم میاں جلال الدین نے بھی اس کی بھر پور مخالفت کی اور یہ کہہ کر بادشاہ کو چھوڑ دیا کہ یہ اسلام کی توہین ہے۔  حکیم میاں جلال الدین اس کے بعد لاہور منتقل ہو گئے اور اپنی حکمت لاہور میں ہی شروع کر دی۔  بادشاہ جہانگیر چوتھا مغل بادشاہ تھا  اور  اپنے باپ کے برعکس  ایک روایتی مسلمان تھا۔ لیکن پھر بھی اس نے دینِ الہٰی  پر اصرارکیا۔ شیخ احمد (مجدد الف ثانی کے طور پر جانے جاتےہیں) نے بھرپور مخالفت کی اور حکم ماننےسے انکار کر دیا۔جس کے نتیجے میں انہیں گوالیار فورٹ میں قیدکر دیا ۔ حکیم میاں جلال الدین نے مکمل طور پر شیخ احمد کی تحریک میں حصہ لیا۔ تاہم  دو سال بعد ہی شہنشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔   بادشاہ جہانگیر  نے پھر صرف شیخ احمد کو رہا ہی نہیں کیا بلکہ واپس  آگرہ  بھی بلا لیا اورتمام غیر اسلامی قوانین جو شاہ محمد اکبر کی طرف سے لاگو تھے وہ بھی ختم کر دیے۔ بادشاہ جہانگیر نے حکیم میاں جلال الدین لاہوری کی سابقہ  خدمات کے بدلے میں انہیں پرگنا ہانکڑا  میں 10،000 ایکڑ اراضی سے نوازا۔  حکیم میاں جلال الدین لاہوری نے اپنی رہائش اور سیکورٹی کے لئے 20 کنال فورٹ تعمیر کیا۔ حکیم میاں جلال الدین لاہوری نے اپنی باقی زندگی مقامی لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔  انہوں نے تبلیغ کی اور علاقے میں اسلام کو فروغ دیا۔ اس علاقے میں ہندؤں  اور سکھوں کی اکثریت تھی اور مسلمان اکثر تنازعات کا شکار ہوتے تھے۔  انہوں نے مسلم کمیونٹی کی حمایت اور سپوٹ کا کام شروع کیا۔  حکیم میاں جلال الدین لاہوری  اور ان کی فیملی جنجوعہ آرائیں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ حکیم میاں جلال الدین لاہوری کے بعد ان کی فیملی نے مسلم کمیونٹی کی سپورٹ اور دیگر فلاح کے  کاموں کو جاری رکھا ۔  اسلامی جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا، مختلف لڑائیوں میں مسلمان شہید ہوتے رہے جس کے نتیجے میں اس علاقے میں شہیدا کے نام پر 9 قبرستان قائم ہوئے جن کے نام یہ ہیں۔  1۔ نورن شہید 2۔ شادن شہید 3۔ ابراہیم جتی ستی  4۔ عالم شاہ 5۔ محمدشاہ، 6۔ گل چند شہید 7۔ حافظ اللہ بخش 8۔ال بخش اور  9۔  جادے والا      آج یہ علاقہ جلہ جیم کے نام سے مشہور ہے۔ یہ نام میاں جلال الدین کے نام سے منسوب ہے۔1050  ہجری میں  میاں جلال الدین لاہوری  کے بیٹے حکیم رکن الدین  نے بادشاہی جامع مسجد جلہ جیم کی تعمیر کی۔ تمام تاریخی قبرستانوں، بادشاہی جامع مسجد اور فورٹ کی نشانیاں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

میاں جلال الدین سے میرے دادا حکیم میاں قمر الزمان سکلینی تک: ہمارے بزرگوں نے جلہ جیم کی سیاسی، سماجی اور حکمت کے لحاظ سے خاطر خواہ خدمت کی ہے۔ میاں جلال الدین سے میرے دادا حکیم میاں قمر الزمان سکلینی تک ہمارے بزرگوں کی فہرست یوں ہے۔ 1. حکیم میاں جلال الدین لاہوری2. حکیم میاں رکن الدین3. حکیم میاں محمد رمضان4. حکیم میاں جوم علی5. حکیم میاں حسین علی6. حکیم میاں محمد رمضان7. حکیم میاں رکن بخش8. حکیم میاں فضل الحق9. حکیم میاں قمر الزمان سکلینی آج  ہماری جنجوعہ آرائیں فیملی صرف  جلہ جیم ہی آباد نہیں ہے،  بلکہ پاکستان کے مختلف حصوں میں نقل مکانی کر چکی ہے۔

میرے دادا جناب حکیم میاں قمر الزمان  کا تعارف میرے دادا کا نام حکیم میاں قمر الزمان تھا۔ وہ  خاکسار تحریک میں  کافی سرگرم رہے۔ 1931 ء میں علامہ عنایت اللہ مشرقی نے خاکسار تحریک  کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک  سماجی تحریک تھی جو لاہور سے شروع ہوئی اس کا بنیادی مقصد بھارت کو برطانوی سلطنت کے تسلط سے آزاد کروانا تھا۔  علامہ مشرقی نے 4 جولائی 1947  کو خاکسار تحریک تحلیل کر دی  کیوں کہ بھارت کے مسلمان نئی اسلامی ریاست یعنی پاکستان  کے حصول  کی کوششوں پر  زیادہ مطمئن اور پر امید نظر آتے تھے۔  ساتھ ہی خاکسار تحریک میں  مسلمانوں کی دلچسپی بھی کم ہو چکی تھی۔  حکیم میاں قمر الزمان خاکسار تحریک کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ میں سرگرم تھے۔ حکیم میاں قمر الزمان پاکستان کے قیام کے بعد  یونین جلہ جیم کے 2 دفعہ  چیئرمین بنے، پہلی ٹرم 1959 سے 1964 اور دوسری  ٹرم 1968 سے 1964 تھی۔

بطور چیئر مین حکیم میاں قمر الزمان کی اہم کامیابیاں

علاقہ کے فلاحی کاموں کے لیے 24 ایکڑز رقبہ کی فراہمی ممکن بنائی۔  جسے درج ذیل فلاحی کاموں کے لئے الاٹ کیا گیا۔ 1۔ 14 ایکڑ ز پر ہائی سکول کی تعمیر2۔ 3 ایکڑز پر یونن کونسل کی تعمیر3۔ 1 ایکڑ پر خدام القران 4۔ 1 ایکڑ پر ویٹرنری ہسپتال5۔ 2/1 ایکڑ پر گرلز سکول6۔ 2/1 ایکڑ پر کلب گھر7۔ 5 ایکڑز پر ہیلتھ سینڑ جلہ جیم انہوں نے 1938 میں فضل ربانیہ کے نام سے ایک شفا خانہ  بھی قائم کیا، جس کا مقصد  علاقے کے غریب اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت کرنا تھا۔ مستحق مریضوں کو کھانا ، پینا ، رہنا اور ادویات وغیرہ  کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ جب تک وہ حیات رہے  کارِ خیر کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔

میرے والدِ محترم میاں عبدالسلام صاحب کا تعارف میرے والد کا نام میاں عبدالسلام ہے، انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری 1973 میں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور ملتان بار سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔صاحبزادہ فاروق علی خان ایڈوکیٹ  (سابق سپیکر قومی اسمبلی پاکستان)، محمد بشیر خان ایڈوکیٹ (سابق وائس چئیر مین، پاکستان بار کونسل) چوہدری عبدالطیف فروز پوری ایڈوکیٹ  اور چوہدری پرویز آفتاب ایڈوکیٹ  سے پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کی۔  1974 میں وہ میلسی منتقل ہو گئے اور میلسی بار سے پریکٹس شروع کر دی۔  1989 میں انہوں نے میلسی بار ایسو سی ایشن کے الیکشن میں حصہ لیا اور بغیر مقابلے کے صدر منتخب ہوئے۔   حلف برداری کی تقریب  میں جسٹس ہائی کورٹ جناب محمد منیر خان نے بطور چیف گیسٹ  شرکت کی اور میاں عبدالسلام سے  بطور صدر  بار ایسوسی ایشن میلسی حلف لیا۔ دیگر معزز مہمانوں میں ریٹائرڈ چیف جسٹس ہائی کورٹ جناب سردار عبدالجبار خان اور ایکس سپیکر پاکستان نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان شامل تھے۔ میاں عبدالسلام نے بطور صدر جن چیلنجز کو قبول کیا وہ درج ذیل تھے۔ 1۔ نوٹیفکیشن آف سیشن ڈویژن2۔  ججز کے لیے کورٹ رومز    اور رہائش  گاہوں کی فراہمی3۔ اے سی ہاؤس سے 8 کنال کی زمین کا حصول  اور اس سے کورٹس کمپلیکس کی توسیع 4۔  بار رومز، لائبریری، کیفے، ٹی وی لانج وغیرہ کی توسیع6۔ میلسی کے وکلا ء کے لیے رہائشی کالونی کا حصول انہوں نے بار روم اور لائبریری روم کو ایڈیشنل سیشن جج کے نئے کورٹ روم میں تبدیل کیا ۔ علاوہ ازیں ٹی ایم اے کے کلائنٹس شیڈ کو سول جج کے نئے کورٹ روم میں بدل دیا۔

 ستمبر 1989 میں، انہوں نے  سول جج میلسی چوہدری محمد یونس  ( جوبعد میں   بطور جج ہائی کورٹ لاہور ریٹائر ہوئے) کی کو آرڈینیشن  سےایک ترقیاتی سکیم تجویز کی اور اسے برائے منظوری چیف جسٹس ، ہائی کورٹ  لاہور کو بھیج دیا۔

اس سکیم  کے تحت سول ججز کے لئے 4 نئے کورٹ رومز اور سول ججز کے لیے  4  نئی رہائش گاہیں شامل تھیں۔ بعد میں  اس اسکیم کو مکمل طور پر چیف جسٹس ، ہائی کورٹ  لاہور کی طرف سے منظور کر لیا گیا۔

میاں عبدالسلام میلسی بار ایسوسی ایشن کے  6 دفعہ صدر منتخب ہوئے، 1989 کے بعد بلترتیب سال 1990، 1995، 1998، 2000 اور 2001    میں صدر رہے۔  بطور صدر انہوں نے بار ایسوسی ایشن میلسی میں  منعقد ہونے والے سینکڑوں پروگرامز  کی میزبانی کی اور چیف جسٹس، ہائی کورٹ، لاہور، کے علاوہ کئی سینئر ججوں کو مدعو کیا۔ سیاستدان اور سول سوسائٹی کی جانب سے  بھی کئی مہمانوں نے شرکت کی۔ ضلع  کونسل سے بار ایسوسی ایشن میلسی  کے لئے  فنڈز کی فراہمی برائے تعمیر بار روم کمپلیکس ،  ہائی کورٹ  سے  فنڈز برائے تعمیر کورٹ کمپلیکس اور قیام گاہ برائے ججز،  چیمبرز، لائبریری،کینٹین اینڈ کیفیٹیریا کی  ڈیویلپمنٹ، ٹریننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروگرامز کا انعقاد،  بار اور بنچ کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ کے لئے ایکسپویر لیکچرز ، انصاف اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات ان کی اہم کاوشوں میں شامل ہیں۔  انہوں نے ہمیشہ سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور کئی علاقائی بار ایسوسی ایشز اور سول سوسائٹیز کو اکھٹا کیا۔  میلسی وکلاء  رہائشی کالونی کے حصول کے لیے انہوں نے  تسلسل  کے ساتھ جدوجہد کی، جنوری 1990 ء میں انہوں نے میاں نواز شریف (جب وہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے) اور میاں شہباز شریف سے  ن لیگ سیکرٹریٹ ماڈل  ٹاؤن(لاہور) میں ملاقات کی اور تجویز جمع کروائی۔  اپریل 1998 ء میں میاں نواز شریف ( جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم تھے)  میلسی کا دورہ کیا اور اس دوران  ملاقات میں انہوں نے ریلوے اور اوقاف اراضی سے رقبہ فراہم کرنے کا  وعدہ کیا۔ اپنی  کالج کی زندگی سے ہی انہوں نے سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں  حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔  کالج کی سطح  پر ان کی سیاسی سر گرمیوں میں جو ساتھی شامل تھے ان تصدق حسین جیلانی (پاکستان کے سابق چیف جسٹس)، جاوید ہاشمی (سابق وفاقی وزیر اور مشہور قومی رہنما)، محسن نقوی (مشہور اردو شاعر)،اصغر ندیم سید (مشہور رائٹر اور پروفیسر)، وقار احمدقریشی (کنٹرولر امتحانات، بی زیڈ یو) اور ملک محمد ناظم(ریٹائرڈ تحصیل میونسپل آفیسر) وغیرہ شامل تھے۔ نومبر 1968 ء میں انہوں نے پاکستان پیپلز  پارٹی کے ساتھ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا، انہوں نے ملتان  ائیر پورٹ پر  مورخہ 18 مارچ 1970 کو صاحبزادہ فاروق علی خان کی قیادت میں  ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی اور سوال کیا کہ آپ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا تے ہیں، آپ عوام کو صرف یہ بتا دیں کہ آپ خود کیا پہنیں گے، آپ خود کیا کھائیں گے اور آپ خود کس طرح کی رہائش میں رہنا پسند کریں گے۔ اگر آپ عوام کو صرف یہ بتا دیں کہ آپ کا  طرز بودوباش بطور حکمران کیسا ہو گا تو عوام کے دکھوں کا مداوا ہو جائے گا۔  ہمیں آج بھی اپنی سیاسی قیادت سے اسی سوال کا جواب چاہیے۔ سماجی شعبے میں  “انجمن شہرانِ میلسی”  کے صدر رہے اور ” سول کلب میلسی ”   کا قیام کیا جس میں سول سوسائٹی اور اسسٹنٹ کمشنر کی مدد حاصل کی۔ انہوں نے ان ڈور گیمز کے فروغ کے لیے سول کلب میں بطور جنرل سیکرٹری  بھی اپنی خدمات سر انجام دیں اور  وکلاء، بینک آفیسرز، سرکاری حکام سمیت کاروبار ی اور سماجی حلقوں میں انڈور گیمز کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔انہیں سماجی، سیاسی، کاروباری اور وکلاء کے حلقوں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں،  روزانہ کام کرتے ہیں، بے مثال قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، وہ  طویل مدتی تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔   ان کی باتیں حکمت اور دانائی سے بھر پور ہوتی ہیں، اسلامک لیکچرز اور سیاسی تقاریر سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سماجی مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں،  اردو ادب خاص طور پر اقبالیات پر کافی عبور حاصل ہے۔ تاریخ ِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے تقریباِِ ہر پہلو کو  جانتے ہیں۔  بچپن سے ہی انہیں اپنے والدین اور بزرگوں کا احترام اور خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہمیشہ پُر امید رہتے ہیں، مشکلات کا سامنا ڈٹ کر کرتے آئے ہیں۔ اپنے اصولوں پر کبھی بھی سودا نہیں کرتے۔

17۔ازدواجی حیثیت؟

میری شادی17 فروری  2009 کو ہوئی۔ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ، بیٹے کا نام میاں اسماعیل وقار ہے جس کی عمر 5 سال ہے اور بیٹی کا نام مریم وقار ہے جس کی عمر 4سال ہے۔

18۔فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

میرے والد کا نام میاں عبدالسلام ہے وہ ایک تجربہ کار وکیل ہیں۔ میری والدہ  ہاؤس وائف ہیں، وہ زندگی میں ہر موقع میری حوصلہ افزائی کا ایک بڑا ذریعہ رہی ہیں۔  ہم  چاربھائی  ہیں ۔  بھائیوں اور والدین کی طرف سے ہمیشہ خاطر خواہ سپورٹ حاصل رہی ہے۔

19۔ کاروبارو اور دیگر مصروفیات کے بارے میں بتائے؟

 الف : مارول سسٹم ،  بطور پرنسپل کنسلٹنٹ مارول سسٹم: 1995 ء میں مارول سسٹم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔  مارول سسٹم ایک ملٹی فنگشنل بین القامی بزنس کنسلٹینسی گروپ ہے۔  ہمارے بزنس کنسلٹنٹس اور منیجمنٹ ایکسپرٹس  ہر کانٹینٹ میں موجود ہیں ۔ ہم ایک  منظم گروپ کی صورت میں دنیا بھر میں کام کر تے آ رہے ہیں۔  آج ہم  ملٹی ڈسیپلنری (مختلف خدمات دے رہے ہیں)،ملٹی نیشنل (مختلف ممالک  میں موجود ہیں)،  ملٹی سیکٹرز (مختلف شعوبوں میں ایکسپرٹ ہیں)، ملٹی لوکیشنز (مختلف شہروں میں موجود ہیں) اورملٹی لینگول (مختلف زبانیں  بولتے) ہیں۔ آج ہماری 300 سے زائد ممبر آرگنائزیشنز ہیں ، ہم  ان تمام کے ساتھ گزشتہ 10 سے لے کر 20 سال سے کام کر رہے ہیں، ۔ ہم  صرف ممبر آرگنائزیشنز   کے ساتھ سہولت کار کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا کام مزید بہتر طریقے سے سر انجام دے سکیں۔ ب: مارول سسٹم انوسٹمنٹ فیڈریشن،   بطور  پریزیڈنٹ مارول سسٹم انوسٹمنٹ فیڈریشن ، مارول سسٹم کی ممبر آرگنائزیشنز    کو شارٹ لسٹ اور گروپ کرتی ہے تاکہ ممبرز کے لیے انوسٹمنٹ کے مواقع تلاش کئے جا سکیں۔ فیڈریشن  اپنی ممبر آرگنائزیشنز     کی سرمایہ کاری کا تحفظ کرتی ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت بھی  کرتی ہے۔   فیڈریشن  سرمایاکاروں میں اعتماد کی فضا قائم رکھنے اور نئی انوسٹمنٹ سے متعلق مواقع کی فراہمی اور  آگاہی   دینے میں بھی معاونت کرتی  ہے۔  آج ہمارے پاس 10 سپیشل سیکٹرز میں اپنی ممبر آرگنائزیشنز کے لئے 100 سے زائد کی سرمایہ کاری کے مواقع  موجود ہیں۔ پ: نیازی گروپ آف کمپنیز بطور ڈائیرکٹر آپریشنز اینڈ کنسلٹنٹ  میں  گزشتہ 15 سال سے نیازی گروپ آف کمپنیز کے ساتھ بطور ڈائیرکٹر آپریشنز اینڈ کنسلٹنٹ کے منسلک ہوں۔ نیازی گروپ  کاقیام 1960 میں ہوا۔ آج نیازی گروپ ایک معروف کاروباری ادارہ ہے۔ نیازی گروپ کو  کنسٹرکشن بزنس، رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، لاجسٹک سروسس، ٹوورازم سیکٹر، برکس مینوفیکچرنگ اور اگریکلچر فارمنگ سمیت متعدد شعبوں میں  انتہائی  اہم مقام ہے ۔  میں نے ان کمپنیوں میں سے تقریبا  سب کے ساتھ کام کیا ہے اوراس کے علاوہ کئی مختصر اور طویل مدتی منصوبوں میں بھی حصہ لیاہے۔  مجھے نیازی گروپ آف کمپنیز کی طرف سے سال 2016  کا  لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ  ملنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ت: دی پروفیشنل آرگنائزیشن، بطور  کارپوریٹ ٹرینر میں دی پروفیشنل آرگنائزیشن  کے ساتھ کارپوریٹ ٹرینر، ٹرینر آف ٹرینرز اور کیریئر کونسلر کی حیثیت سے منسلک ہوں۔ ہم  گورنمنٹ آف پاکستان ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔  اس کے علاوہ ، ہیومن ڈیویلپمنٹ (این سی ایچ ڈی)، پلان پاکستان، این آر ایس پی، یو این ڈی ایف، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ادارہ تعلیم و آگہی، الہجرہ ٹرسٹ پاکستان، الہجرہ ٹرسٹ یو کے ، الہجرہ ٹرسٹ ترکی اور دوسرے بہت سے مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بھی پراجیکٹس کر رہے ہیں۔ ہمارے متعدد ٹریننگ پروگرامز میں،  آئی ٹی  ٹریننگ،  منیجمنٹ ٹرینگ ،  انگلش لینگوج ، زندگی کی مہارتیں ،  سوشل ڈیولپمنٹ پروگرامز اور سکولوں کی ری ہیبی لیشن اینڈ ایمپرومنٹ پروگرامز سب سے اہم ہیں۔ ٹ: ادب سرائے  انٹرنیشنل ، بطور ایڈوائزر ادب سرائے  انٹرنیشنل ایک اردو ادبی تنظیم ہے جو گذشتہ 30  سالوں سے اردو  کے فروغ کے لیےمقامی اور بین القوامی سطح پر  مسلسل کام کر رہی ہے۔  اس تنظیم کا بنیادی مقصد نئے لکھنے والوں  کی بھر پور حوصلہ اٖفزائی کرنا اور  انہیں ان کی شاعری اور نثر کے لیے ایک کھلا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ادب سرائے  انٹرنیشنل  کے ممبرز اور معروف شاعر، مصنف اور اہل علم سے دنیا بھر میں اردو ادب کے فروغ کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ادب سرائے  انٹرنیشنل کی نمایاں  کامیابیاں: 100 سے زیادہ  مقامی اور عالمی ادبی تنظیموں سے باقاعدہ روابط، 600  سے زیادہ ماہانہ ادبی پروگرامز کا انعقاد، 1000 سے زیادہ مقامی ادبی پروگرامز میں شرکت ، 100 سے زیادہ عالمی ادبی پروگرامز میں شرکت ، 100 سے زیادہ معروف شاعروں کو خصوصی مہمان کے طور پر  دعوت، 300 سے زائد سپیشل ڈے پروگرامز کا انعقاد،100 سے زیادہ نئی کتابوں کے  افتتاحی پروگرامز، 5000 سے زائد نئی اردو کتابوں کا جائزہ ، اور 1000 سے زیادہ نئے اردو اور پنجابی لکھاریوں ، شاعروں کی مدد اور اصلاح۔ مجھے  ادب سرائے  انٹرنیشنل  کی طرف سے سال 2017  کا  لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 20۔بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

جب پہلی دفعہ قران پڑھا

جب میں نے پہلی دفعہ قران ترجمے کے ساتھ پڑھا، تو سوچ میں پڑ گیا کہ یہی قران تھا جسے پڑھ کر صحابہ روتے جاتے تھے، پھر یہ سوچا کہ مجھ پہ تو ایسی کیفیت آئی ہی نہیں، پھر یہی سوچ کر قران دوبارہ پڑھنا شروع کیا، پھر وہ پہلی آیت آ ہی گئ جس پر انتہا کی رقعت قائم ہوئی اور 45 منٹ تک میں اس آیت سے آگے نہیں بڑھ سکا:

پارہ نمبر 4، آیت نمبر 188، سورت ال عمران

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ١٨٨

آپ ہرگز خیال نہ کریں کہ جو لوگ اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان پر ان کی تعریف کی جائے ان کے بارے میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے چھوٹ گئے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

یہ الفاظ میرے کانوں سے گزرتے اور میرے ماضی اور حال کے حالات میرے سامنے گھومنے لگتے، اگر مجھے کبھی کسی نے دھوکہ دیا، تو اس کے پیچھے جھوٹی تعریفیں ہی نظر آئیں، اور پروفیشنل لائف میں بہتر سے بہترپراگرس کے لیے ہمیں یا اپنی کمپنی یا اپنے پراڈکٹس یا اپنی سروس کی خاطر خواہ تعریف کرنی یا کروانی پڑتی۔ میری زندگی کی فلاسفی کو بدلنے کے لیے یہ ایک آیت کافی تھی۔

میں اپنے آپ کو اسی دن سے مسلمان سمجھتا ہوں، اسلام کی روح کیا ہوتی ہے، اللہ کو یاد کیسے کیا جاتا ہے اس کے لیے رویا اور تڑپا کیسے جاتا ہے، میری ذات اس طرح کی کسی بھی کیفیت سے سطحی طور پر بھی نا واقف تھی۔

قران پڑھیئے، دنیا میں ہماری ذات کو جھنجوڑنے کے لیے اس سے بڑی اور کوئی چیز نہیں اتاری گئی! اسی لئے اسے مضبوطی سے پکڑنے کا حکم ہے۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے: کیا تمہیں پوری زندگی میں اتنا وقت نہیں ملا تھا، کہ ایک دفعہ قران پڑھ لیتے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو قران پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور اپنی ہدایت کے راستے پرثابت قدم رہنے کی طاقت بھی دے، امین۔

21۔ادبی سفر کے دواران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

مگرمیرا چاند روٹھ جاتا ہے!

ماڈل ٹاؤن لائبریری میں ادب سرائے کے ماہانہ مشاعرے میں، میں نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک کچھ یوں تھا

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

جب میں نے غزل پڑھ لی توایک سینئر مہمان شاعرہ نے کہا کہ بیٹا چاند سب کا سانجھا ہوتا ہے اور چاند کسی سے نہیں روٹھتا۔

ان کی بات پر میں نے جواب دیا کہ، آپ ٹھیک کہتی ہیں

“مگرمیرا چاند روٹھ جاتا ہے!

پوری غزل کچھ یوں تھی:

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

دل کی بازی میں تم سے ہار بیٹھا تھا
باز تو پھر بھی اے بازی گر نہیں آیا

دیارِ بے خبر سے ناداں کو میرا تجسس تھا
پر اِدھر بھولے سے بھی وہ بے خبر نہیں آیا

اُسے گلہ ہے میں نے بھلا دیا اُس کو
کیسے اُسے بتاﺅں کب اُس کا ذِکر نہیں آیا

تیرے بغیر در بدر کتنا چلیں گے اب وقار
ہم پہ ٹوٹا قہر جو تجھ کو نظر نہیں آیا

شاعر: میاں وقارالاسلام

تصنیف: من کٹہرا

22۔آپ کے پسندیدہ مصنفین؟

بہت سارے مصنفین کو ملنے، پڑھنے اور سننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ بہت سا نیا پرانا ملا جلا کام نظر سے گذرتا رہتا ہے، بہت سارے لوگوں نے بہت اچھا کام کیا تھا، کر رہے ہیں اور کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نام اتنے بڑے ہیں کہ اگر ان کا ذکر نہ کیا جائے تو ناانصافی  ہوگی جن میں  ضیاء محی الدین، اشفاق احمد، عمیرہ احمد، اوریا مقبول جان،  انور مقصود، انتظار حسین، فاطمہ ثریا بجیا، بانو قدسیہ، بشریٰ انصاری، فریال گوہر، محمد یونس بٹ، مستنصر حسين تارڑ، منصور آفاق، منو بھائی، رضیہ بٹ، نسیم حجازی اور سعادت حسن منٹو  جیسے بہت سے لوگ انتہائی نامور ہیں انہوں  اپنے آپ کو ہر سطح پر منوایا ہے۔ یہ تھوڑے سے نام ہے تمام ستاروں کی گنتی چند لائنز میں ممکن نہیں۔  مگر ایک تاریخ رقم کی جاچکی اور اور نئی تاریخ  رقم ہوتی نظر آ رہی ہے۔بدلتے وقت  سے ہم آہنگ بہت سا جدید کام بھی دیکھنے میں نظر آتا ہے  جو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت معلوم ہوتا ہے۔

 23۔اخبارات یا رسائل سے وابستگی؟

ماہانہ و سالانہ لیٹریری و کمرشل میڈیا رپورٹس، لیٹریری و کمرشل ایونٹ نیوز، لیٹریری و کمرشل انٹرویوز، سپلیمنٹس، ایڈوٹائزنگ، آرٹیکلز، شاعری، ٹی وی ، ریڈیوز اینڈ نیوز پیپر سکریپٹس کی اشاعت اور براڈکاسٹنگ کے حوالے سے 150 سے زیادہ لوکل اور انٹرنیشل میڈیا  چینلز سے رابطہ رہا جن میں ریڈیو، نیوز پیپرز، ٹی وی ، میگزینز  اور مختلف آن لائن نیوز ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

24۔ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

ادبی حلقوں کا نقشہ : میں ویسے تو کبھی بھی گروپ بندیوں کا یا ادبی مخالفت کا کبھی بھی شکار نہیں ہوا، مگر اس کلچر کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔  ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کسی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ، تو ہم خوب مزے لے کر پڑھتے ہیں اور بار بار پڑھتے ہیں، لوگوں سے بڑھ بڑھ کر شئیر بھی کرتے ہیں، ہمارا خون ڈبل ہو جاتا ہے، جانے ہماری ذات کون سی تسکین پاتی ہے کہ ہماری روح تک سکون میں آ جاتی ہے، دراصل ہم اپنی شیطانی ہوس کو پورا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے اور محنت کرنے والوں کے حوصلوں کی دہجیاں اُڑا تے چلے ہیں اور اِس پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ ادبی حلقوں کا نقشہ اس سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ اس طرح کے عمل  اور ردعمل سے ادب مفلوج ہو تا ہے اور کچھ لوگ اسے ادب کی خدمت سمجھتے ہیں۔ باہمی وقار ادب کی روح ہے،  وقار نہیں تو ادب بھی نہیں۔ ادبی سفر میں ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ باہمی عزت وقار برقرار رہے۔

25۔ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی ایک ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کی حیثت رکھتی ہے۔ ادب دکھی عوام کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ معاشرے کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے، عوامی مسائل کے حل وضع کرتا ہے، اچھی روایات کا تحفظ کرتا ہے، قومی ویلوز مضبوط کرتا ہے، باہمی ربط اور ہم آہنگی بڑھاتاہے ، معاشی و معاشرتی تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سماجی گراوٹ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ادب کے اثرات بچوں سے لے کر بڑوں تک سب میں نظر آتے ہیں، پڑھنے کو اچھا ملتا ہے، سننے کو اچھا ملتا ہے، دیکھنے کو اچھا ملتا ہے، جس سے لوگوں کے ذہنی تناؤ بھی کم ہوتے ہیں اور عوام میں شعور بھی بڑھتا ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ قوم ایک باشعور قوم بن کر سامنے آتی ہے۔

 حکومتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ ہماری قوم ایک باشعور قوم میں تبدیل ہو کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ جس دن قوم میں شعور پیدا ہو گیا انہیں سیاست میں جگہ نہیں ملے گی۔

26۔اُردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی پیغام؟

اردو ادب سے وابستہ لوگوں سے سوال بھی ہے اور ایک پیغام بھی ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ عوامی شاعر کہاں گئے

جب ایوب خان کا دور آیا

تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے
یہ اس کا پاکستان ہے جو صدرِ پاکستان ہے

اقتدار ایوب خان سے جنرل یحییٰ خان کو منتقل ہوا تو حبیب جالب نے اُن کو بھی اسی لب ولہجے سے مخاطب کیا کہ

تم سے پہلے وہ جواک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اُس کوبھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

حبیب جالب کا بھٹو کو “خراج تحسین”

میں قائد عوام ہوں

جتنے میرے وزیر ہیں سارے ہی بے ضمیر ہیں
میں انکا بھی امام ہوں میں قائد عوام ہوں

جنرل ضیاء الحق کا دور آیا تو حبیب جالب نے نئے آمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ

ظلمت کو ضیاء صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
اس ظلم وستم کو لطف وکرم اس دکھ کو دوا کیا لکھنا

آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالب صاحب کو کہنا پڑا

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

بے نظیر کے بعد نوازشریف کا دور شروع ہوا اور اُنہوں نے عوام کے لئے اپنے بلند بانگ دعوے شروع کئے تو عوامی شاعر بیماریوں کی پوٹ بن گئے تھے مگر اُن سے رہا نہ گیا ۔ میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں عوام کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا مشہور بیان دیا تھا جس پر جالب نے کہا کہ

نہ جاں دے دو، نہ دل دے دو
بس اپنی ایک مل دے دو
زیاں جو کر چکے ہو قوم کا
تم اس کا بل دے دو

حبیب جالب

ظلم کے خلاف لکھنے کی روایات کم ہوتی جا رہی ہیں،  سسکیاں لیتی ہوئی عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

27۔پاک چائنہ تعلقات، گوادر پورٹ کی ااہمیت اور سی پیک کے حوالے سے کچھ بتائیے؟

گوادر کی   تاریخ

 گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاص اہمیت کا حا مل رہا ہے۔ معلوم تاریخ کی ایک روایت کے مطابق حضرت داﺅد علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آ گئے۔ مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔ ایرانی بادشاہ کاﺅس اور افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا ۔325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار Admiral Nearchos نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات ،گوادر، پشوکان اور چابہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل Seleukos Nikator کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو303قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا ۔303ق م میں برصغیر کے حکمران چندر گپت نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کر لیا مگر 100سال بعد 202ق م میں پھر یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی۔ 711عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا جب کہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581ءمیں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچ کیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اورگچ کی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پزیرائی ملی جب انھوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچ کی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔1740ء تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچ کیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ 1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کے لیے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیاء کے ممالک کی تجارت کے لیے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات، گرم مصالحے، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی۔

عمان میں شمولیت

  1783 میں مسقط کے بادشاہ کا اپنے بھائی سعد سلطان سے جھگڑا ہو گیاجس پر سعد سلطان نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آ جانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کے لیے سلطان کے نام کر دیا۔ جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آ کر رہائش اختیار کر لی۔1797میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی حکومت حاصل کر لی۔1804میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلیدیوں نے ایک بار پھر گوادر پر قبضہ کر لیا جس پر مسقط سے فوجوں نے آ کر اس علاقے کو بلیدیوں سے واگزار کروایا۔1838 ء کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اس علاقہ پر ہوئی تو بعد میں1861میں برطانوی فوج نے میجر گولڈ سمتھ کی نگرانی آکر اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور1863 میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا چنانچہ ہندوستان میں برطانیہ کی برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہازوں نے گوادر اور پسنی کی بندر گاہوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔1863میں گوادر میں پہلا تار گھر (ٹیلی گرام آفس )قائم ہوا جبکہ پسنی میں بھی تار گھر بنایا گیا۔1894کو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903کو پسنی اور1904کو اورماڑہ میں ڈاک خانے قائم کیے گئے۔1947میں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور بھارت اور پاکستان کے نام سے دو بڑی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو گوادر اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ یہ علاقہ قلات میں شامل تھا۔

پاکستان میں شمولیت

  1955 میں علاقے کو مکران ضلع بنا دیا گیا۔ 1958ء میں مسقط نے 10 ملین ڈالرز کے عوض گوادر اور اس کے گرد ونواح کا علاقہ واپس پاکستان کو دے دیا جس پر پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کو درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا۔ یکم جولائی 1970کو جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان بھی ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا تو مکران کو بھی ضلعی اختیار مل گئے۔1977میں مکران کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی1977کو تربت، پنجگور اور گوادر تین ضلعے بنا دیے۔

گوادر کا تعارف

 گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر جو اپنے شاندار محل وقوع کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔ (نام گوادر اصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوات یعنی “کھلی ھوا ” اور در کا مطلب” دروازہ” ہے۔ یعنی (ھوا کا دروازہ) گواتدر سے بگڑ کر گوادر بن گیا ہے)  60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل سے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔ گوادر ضلع گوادر کا ضلعی صدر مقام ہے،حکومت پاکستان نے گوادر کو بلوچستان کا حصہ ایک جولائی 1977 کو بنایا اسے ضلعی صدر مقام نئے بننے والے ضلع گوادر کا بنایا اور 2011 میں صوبہ بلوچستان نے اسے سرمائی دارلحکومت بنایا۔ ضلع گوادر کی آبادی 235000 ہے ، 15210 مربع کیلومیٹر پر اور 600 کلومیٹر ساحلی پٹی پر مشتمل ہے ۔ضلع گوادر چار تحصیلوں پر مشتمل ہے جس میں جیوانی، پسنی اور اورماڑہ شامل ہے۔

گوادر پورٹ کی اہمیت

 گوادر پورٹ کی سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ قدرتی طور گہرے پانی(Deep Sea) کی بندرگاہ ہے۔ عام طور پر بندرگاہوں کو سمندر میں نیچے گہرا کرنے کے لئے کھدائی کی جاتی ہے مگر گوادر ان چند بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو گہرے پانی میں واقع ہے۔ قریب کی دوسری بندرگاہوں سے اگر مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو ان کی سمندر میں گہرائی عموماَ نو یا دس میٹر ہوتی ہے۔ ان میں کراچی (9/10)، چاہ بہار (11)، بندرعباس(9/10)، جبل علی (15/16)، اومان (10)، دمام (9)، دوحہ (11/12) گہرے ہیں جبکہ گوادر (17/18) گہری ہے۔ بندرگاہوں میں دوسری بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے لئے سمندر میں ہتھوڑے کے سرے (Hammerhead) جیسی جگہ مصنوعی طریقے سے بنانی پڑتی ہے تاکہ سمندری پانی کا کٹاﺅ روکا جا سکے جبکہ گوادر میں یہ ہیمر ہیڈ بھی قدرتی طور پر بنا ہوا ہے۔ گوادر کی تیسری بڑی خصوصیت اس کا تزویراتی محل وقوع (Geostrategic Location) ہے۔ گوادر خلیج اومان اور خلیج فارس کی تمام بندرگاہوں کے سرے پر واقع ہے۔ اس زون میں اومان، مسقط، دوبئی، عجمان، قطر، بحرین، سعودی،کویت، عراق اور ایران کی کم و بیش ساٹھ بندرگاہیں ہیں جن میں چاہ بہار، بندر عباس، اومان، دوبئی، جبل علی،پورٹ خلیفہ، شاہ عبداللہ ، دمام، ودحہ، شویک اور ام قصر وغیرہ شامل ہیں۔ چین اور مشرقی ایشیا سے مغرب کی طرف جاتے ہوئے گوادر ان تمام بندرگاہوں کے سرے پر واقع ہے۔ چین کے لیے گوادر پورٹ کی اہمیت چین 2001 سے ایک معاشی پالیسی (Go West) پر کاربند ہے۔ چین کے مغربی صوبے شانچی (Shaanxi)، اورمچی (Urumqi)، قورغاس ( Khorgas)، سینکیانک (xinjiang) ایک تو معاشی لحاظ سے بہت پسماندہ تھے ، دوسرے شدت پسندی نے بھی جنم لینا شروع کر دیا تھا اور تیسرے یہ چین کو سینٹرل ایشیا سے ملانے کا راستہ تھا۔ چین نے اپنے مغربی حصے میں 2001 سے تقریباَ 320 بیلین ڈالر کے میگا پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں۔ ، سینکیانک ہی سے چین گوادر تک آئے گا۔ چونکہ سی پیک کی بنیادی اکائی گوادر بندرگاہ ہے اس لئے چین کے لئے یہ ایک (Game Changer) کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین تائیوان کے قریب اپنے جنوب مشرقی ساحلوں سے اگر مسقط تک، ملاکا سے ہوتے آتا ہے تو اسے 4600 ناٹیکل میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ جبکہ گوادر سے یہ فاصلہ 208 ناٹیکل میل بنتا ہے۔ ادھر چین کو کاشغر سے گوادر تک 2700 سے 3000 کلومیٹر کا زمینی فاصلہ طے کرنا پڑے گا ۔ اسی راستے کا نام سی پیک ہے۔ پاکستان اور چین دوستی کا آغاز:  پاکستان 1947ءکو قائداعظم کی مدبرانہ قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں مائوزے تنگ کی عظیم قیادت اور اُن کے لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزاد ہوا۔ 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان نے چین کی آزادی کو تسلیم کیا یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا نقطہ آغاز تھا یا اسے اِس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا تھی جو بعد میں کوہَ ہمالیہ سے بھی بلند دوستی میں تبدیل ہو گئی۔ ہندستان اور چین کا سرحدی تنازع:  1962ء میں بھارت اور چین کے سرحدی تنازعہ کا آغاز ہوا اور دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں اور ہندوستان اور چین میں سرحدی جھڑپیں شروع ہوگئیں اُس وقت چین عالمی برادری سے کٹا ہوا تھا لیکن پاکستان نے اِس موقع پر چین کا بھرپور ساتھ دیا جس کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور پاکستان اور چین کے تعلقات زیادی بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہوگئے اور پاکستان اور چین دوستی کے مظبوط رشتے میں بندھنا شروع ہوگئے۔ اِس موقع پر پاکستان اور چین نے اپنے سرحدی مسائل احسن طریقے سے حل کرلئے اور یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا کامیابی کی طرف سفر کا آغاز تھا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ اور چین کا کردار  1965ء میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ بھارت نے کشمیر کے تنازعہ پر بغیر اعلانِ جنگ کئے جنگ شروع کردی پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کی فوج کو منہ توڑجواب دیا اور بھارت کو اِس جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ میں چین نے پاکستان کا ہر طرح ساتھ دیا اور پاکستان کی بھرپور مدد کی اور اپنی سچی دوستی کا حق نبھایا اِس جنگ میں چین نے پاکستان کی حمایت میں جو کردار ادا کیا وہ مثالی تھا اور پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثالی دوستی میں تبدیل ہوگئی۔  1971ء کی پاک بھارت جنگ اور چین کا کردار  1971ء میں بھارت نے 1965ء کی جنگ کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے مشرقی پاکستان کی صورتِ حال سے فائدہ اُٹھا کر مشرقی پاکستان میں سازش کے ذریعے اپنی فوج بھیج دیں اور مشرقی پاکستان میں پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز شروع کردیا پاکستان کی فوج نے بھارت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا جس کی وجہ سے پاکستان اپنی فوج کو وسائل نہ پہنچا سکا اور بھارت کی سازش کامیاب ہوگئی اور اِس سازش کے نتیجہ میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہوگئے اور اِس طرح دُنیا میں ایک نیا ملک بنگلہ دیش کی صورت میں وجود میں آیا۔ اِس نازک اور مشکل مرحلے پر چین نے ایک بار پھر اپنی دوستی کا حق نبھایا اور پاکستان کی بھرپور مدد کی جس کی وجہ سے پاکستان اور چین ایک دوسرے کے اور قریب آگئے۔ چین امریکہ تعلقات کی بہتری میں پاکستان کا کردار   جب 1949 میں چین آزاد ہوا تو امریکہ اور چین کے تعلقات اتنے بہتر نہیں تھے بلکہ کشیدگی کی طرف مائل تھے لیکن پاکستان کی کئی سالوں پر مشتمل مسلسل کوشش اور مخلصانہ جدوجہد کے نتیجہ میں اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا دورہ کیا ۔ اس طرح امریکہ اور چین کے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے اور چین کا عالمی برادری میں ایک مقام پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ چین کو اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت مل گئی اور چین کو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حق مل گیا۔ پاکستان کے اِس کردار کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بہت بلند ہو گیا اور چین اور پاکستان کی دوستی مثالی اور کوہ ہمالیہ سے بھی بلند سمجھی جانے لگی اور پاکستان اور چین کی دوستی دُنیا کی نظروں میں ایک قابل رشک دوستی بن گئی۔ اسلحہ سازی اور اٹیم بم اور چین چین نے ہر موقع اور ہر مرحلے پر پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو نبھایا ہے۔ چین نے آٹیم بم بنانے میں پاکستان کی دُنیا کی تمام مخالفتوں کے باوجود مدد کی اس کے علاوہ چین نے پاکستان میں ٹینک سازی اور طیارہ سازی میں بھرپور مدد کی جس کی وجہ سے پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت نے بہت ترقی کی اس کے علاوہ چین]]، پاکستان]] کی مختلف دفاعی منصوبہ جات میں بھرپور مدد کر رہا ہے جس کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ توانائی اور دیگر منصوبہ جات میں چین کی مدد:  چین توانائی اور دیگر بہت سے منصوبہ جات میں جن میں سینڈک کا منصوبہ، گوادر پورٹ کا منصوبہ پاکستان کو ریلوے انجن کی فراہمی اور دیگر بے شمار ایسے منصوبہ جات ہیں جن میں پاکستان کو چین کی بھرپور مدد حاصل ہے جس سے پاکستان اور چین دوستی کے ایک ایسے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جس کی شاید ہی پوری دُنیا میں کوئی مثال موجود ہو اور شاید نہ ہی کبھی ہوگی- پاک چین دوستی کوہ ہمالیہ سے بھی بلند  پاکستان اور چین کی دوستی کو کوہ ہمالیہ سے بھی بلند سمجھا جاتا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی طرف سے اِس دوستی کو اِس مقام تک پہنچانے میں جس سچائی، مخلصی اور محبت کا مظاہرہ کیا گیا ہے شاید ہی اِس کی پوری دُنیا میں کوئی مثال ہو۔

پاک چین اقتصادی راہداری   پاک چین اقتصادی راہداری   یا سی پیک  یہ ہائی ویز، موٹرویز، ریل، تیل اور گیس کے پائپ لائنوں کا ایک جال ہے۔ یہ سب کچھ گوادر پورٹ کے گرد گھوم رہا ہے۔ سی پیک 45.69 بلین ڈالر کا منصوبہ تھا۔ جس میں حال ہی میں 5.5 بیلین ڈالر کا مزید اضافہ ہوا ہے جو لاہور، کراچی ریلوے لائن کے لئے ہے۔ 33.79 بیلین ڈالر توانائی کے لئے ہیں۔ 5.9 بیلین ڈالر سڑکوں کے لئے ہیں۔ 3.69 بیلین ڈالر ریلوے لائنزکے لئے ہیں۔ 66 ملین ڈالر گوادر پورٹ کے لئے ہیں۔ 4 ملین ڈالر فائر آپٹکس کے لئے ہیں۔  پاک چین اقتصادی راہداری کے بڑے منصوبے جو دوطرفہ تعاون سے ہیں 1.       گوادر بندرگاہ: 2015ء سے لے کر اگلے 40 سال تک کے لئے چین کے حوالہ کر دی گئی۔2.       اضاقہ و بہتری کراچی–پشاور مرکزی ریلوے لائن3.       خنجراب ریلوے4.        کراچی تا لاہور موٹر وے 5.       حویلیاں سے خنجراب تک ریلوے لائن6.        ہزارہ موٹر وے7.       ایران پاکستان گیس پائپ لائن8.        گوادر-رتوڈیرو موٹر وے9.        اقتصادی راہداری حفاظتی فوج10.   حویلیاں ڈرائی پورٹ11.  اورنج لائن (لاہور میٹرو)12.  اضافہ و بہتری گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈہ13.  پاک چين مشترکہ کپاس حیاتی تکنیکی تجربہ گاہ    14.   گوادر-نواب شاہ ایل این جی ٹرمینل اور پائپ لائن پروجیکٹ15.  70 MW ہائیڈرو-بجلی سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبہ16.   بن قاسم بندرگاہ 2×660ایم ڈبلیو کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ17.  720ایم ڈبلیو خروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ18.   Zonergy 9×100 ایم ڈبلیو پنجاب میں شمسی بجلی کا منصوبہ19.   جام پور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ20.   تھر بلاک 2 میں 3.8Mt/a کان کنی منصوبہ    21.  تھر بلاک 2 میں 2x330MW کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ22.  نجی ہائیڈرو پاور منصوبوں کی ترقی  23.  دادو ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ24.   حبکو کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ25.  سرحد پار سے فائبر آپٹک ڈیٹا مواصلاتی نظام کا منصوبہ

اوبار(One Belt,One Road) کیا ہے؟ اوبار(One Belt,One Road) چین کی معاشی برتری کا خواب ہے جس پر ٹریلین ڈالرز کی لاگت آنی ہے۔ اوبار کا ایک بنیادی جزو سی پیک(CPEC) ہے۔ سی پیک کی بنیاد گوادر پورٹ ہے۔  ایک شاہراہر One Belt- One Road اور نئے عالمی اور علاقائی اداروں کی تشکیل کے پس منظر میں حالیہ برسوں میں چین کی اقتصادی ترقی اور اُس کی ترجیحات کا ایک اجمالی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ 20.85 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ اس کی شرح ترقی 6.9 فی صد سالانہ ہے جب کہ اس کی فی کس آ مدنی 8240 ڈالر ہے۔ معیشت 9 فی صد، زراعت 50.5 فی صد، صنعت اور 50.5 خدمات کے شعبوں پرمشتمل ہے۔ چین کی برآمدات 2.28 ٹریلین ڈالر اور درآمدات 1.3 ٹریلین ڈالر ہیں۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3.3 ٹریلین ڈالر کے مساوی ہیں۔ چین میں حالیہ برسوں کی صنعتی ترقی اور تعمیراتی شعبوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق چین میں 2011-13 کے دو سال میں استعمال ہونے والے سیمنٹ کی مقدار امریکا میں 20 ویں صدی کے پورے 100 سال میں استعمال ہونے والے سیمنٹ کی مقدار سے زیادہ تھی۔ ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے آئی ایچ ایس گلوبل کے مطابق جن کا حصہ 2010 میں دنیا کی کل صنعتی پیداوار کا 19.8 فی صد تھا جب کہ اس معیشت کے حصول کے لیے امریکا کو 110 سال کا عرصہ لگا تھا۔ چین کی تجارت جو 1988 میں صرف 106 بلین ڈالر کے برابر تھی۔ 2013 تک 4.16 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ اضافہ تک پہنچ گئی۔ چین اب بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ ایشیئن انفراسٹرکچر امور سمٹ بنک میں امریکا کے سوا دنیا کے تقریباً تمام نمایاں ممالک شامل ہیں، جن میں برطانیہ، یورپی یونین کے ممالک، جاپان، آسٹریلیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برازیل، جنوبی افریقا، پاکستان، بھارت، ایران، عراق سمیت دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک شریک ہیں اور اس طرح یہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں کے مساوی طاقت کا حامل ہے۔ اوبر (Obor) کا تصور صدر ژی جی پنگ نے 2013 میں پیش کیا تھا، جس کے ذریعے چین کی تجارت کے لیے بین الاقوامی راہداریوں کے چھے راستوں کی نشان دہی کی گئی، جن کے ذریعے اُسے یورپ، افریقا، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے 60 سے زیادہ ممالک تک رسائی حاصل ہوگی۔ اِس تصور کے دو بنیادی اجزاء ہیں۔ ایک خطے (One Belt) سے مراد شاہراہ ریشم کی توسیع، یورپ اور پورے ایشیائی علاقوں، جن میں وسطی ایشیا، روس، بائیلوروس، لتھوینیا، پولینڈ، جرمنی، نیدر لینڈز، وسطی اور مشرق یورپ اور جنوب مشرقی یورپ (بلقانی ریاستیں، بلغاریہ اور رومانیہ) شامل ہیں، جنہیں یوریشیا بری پل (Eurasia land bridge) کے ذریعے جوڑا جائے گا۔ یوں پورا پراجیکٹ گوادر سے جڑ جائے گا۔ ایک شاہراہ (One Road) پراجیکٹ، چین کے مشرقی ساحلی علاقوں اور چین کے مغربی (Land locked) علاقوں کو بحرالکاہل اور بحرہند کے موجودہ سمندری رابطوں کے متبادل کی تشکیل کرتے ہوئے پاکستان اور میانمار (برما) کے ذریعے بحرہند تک براہ راست رسائی حاصل کرنا ہے، جہاں چین کو سری لنکا اور پاکستان میں گوادر کی بندرگاہوں کے انتظامی حقوق حاصل ہیں۔ اوپر پراجیکٹ درج ذیل چھ تجارتی راہداریوں پر مشتمل ہے

 1 ۔نیو یورایشیالینڈ برج
2۔ چین، منگولیا اور روسی راہداری
3۔چین، سینٹرل ایشیا و مغربی ایشیا راہداری
4 ۔چین انڈو چائنا پنحثیلا راہداری
5 ۔ چین پاکستان تجارتی راہداری

6 ۔چین، میانمار، بنگلہ دیش، بھارت راہداریاوبر پراجیکٹ پر چینی نائب وزیراعظم ژانگ گیولی کی سربراہی میں قائم کمیشن برائے قومی ترقی و اصلاحات (NDRC) کے ذریعے عمل کیا جارہاہے جبکہ چین کی وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے NDRC کی معاونت کریں۔ NDRC نے اپنے خاکہ میں تحریر کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایشیا کو یورپ سے جوڑتے ہوئے ان کے مابین واقع ممالک میں اقتصادی ترقی کے لیے بے پناہ ذخائر ہیں، جنہیں بروئے کار لانا ہے اور یہ صرف چین کے لیے نہیں بلکہ OBOR کے خطہ میں واقع تمام ممالک کے لیے ہیں۔ اوبر پراجیکٹ کی واضح ترجیحات حسب ذیل ہیں

 1۔ چین کے پس ماندہ رہ جانے والے علاقوں بالخصوص مغربی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی
2۔ اشیاء و خدمات کے تجارتی بہاؤ، افراد کے لیے آزادانہ سفری سہولتیں اور اطلاعات و ثقافت کے تبادلہ کے ذریعے دونوں خطوں میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کا فروغ
3۔ چین اور اُس کے ہمسایہ ممالک کے مابین جڑت میں اضافہ،
4۔توانائی کی ترسیل، متبادل تجارتی راستوں کی تکمیل اور اس کی سکیورٹی کی فراہمی
5۔ بیرون ملک چین کی سرمایہ کاری میں اضافہ اوبر پراجیکٹ نہ صرف 60 سے زیادہ ملکوں کو مربوط کرے گا بلکہ یہ خطہ دنیا کی 66 فیصد آبادی اور

33 فی صد جی ڈی پی کا حامل ہو گا۔ چین ڈیویلپمنٹ بنک نے اس پراجیکٹ کے لیے 890 بلین ڈالر، ایشین انفراسٹرکچر اور سمنٹ بنک نے 50 بلین، سلک روڈ فنڈ نے 40 بلین، نیو ڈیویلپمنٹ بنک نے 30 بلین اور الییان انفراسٹرکچر فنڈز نے 20 بلین ڈالر مختص کر رکھے ہیں۔ اس پراجیکٹ میں چین کے پسماندہ علاقوں کے لیے انتہائی اہم ترجیحات بھی متعین کی گئی ہیں۔ کمیشن برائے قومی ترقی و اصلاحات NDRC کے ساتھ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹم (GAC)، اتھارٹی برائے کوالٹی کنٹرول، انسپکشن و کوارینٹائین اور وزارت ٹرانسپورٹ کو بھی پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ جے اے سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ تجارتی راہداریوں کے ساتھ کسٹم ڈیوٹیز میں خصوصی رعایتیں دے گی، جس کی وجہ سے ان راہداریوں کے ممالک کو چین کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کے لیے مواقع ملیںگے۔ وزارت تجارت اور وزارت ٹرانسپورٹ نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ، توانائی، انفراسٹرکچر، لاجسٹک، کارگو اور ہوا بازی کے شعبوں میں تعاون کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ چین نے اپنے صوبوں اور شہروں کی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اوبر پراجیکٹ میں امکانیت اور اس کے فوائد میں شریک ہونے کے لیے اپنے پراجیکٹس NDRC کے پاس رواں سال کے آخر تک جمع کرائیں۔ اوبر ایک طویل المدتی پراجیکٹ ہے۔ اس میں شریک ممالک کے حوالے سے چین کئی طرح چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ مشرق بعید، جنوبی ایشیا اور یورایشیائی ممالک کے حوالے سے اس کے اہداف کے حصول چین کی قیادت کے لیے ایک انتہائی کٹھن امتحان ہے۔ مثال کے طور یورایشیا بری پل پراجیکٹ میں روس، اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات کی نوعیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انڈو چائنا پنجشیلا میں چین اور فلپائن کے تعلقات اور میانمار، بنگلہ دیش اور بھارت کے باہمی اور چین کے ساتھ ان کے مجموعی تعلقات کے صدر ژی جی پنگ کا خواب ’’دشمنی کے بجائے دوستی‘‘ کی تعبیر تلاش کرنا، چینی قیادت کے لیے کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ چین پاکستان تجارتی راہداری، اس سارے پراجیکٹ میں چین کی واحد طاقت ہے، جسے وہ پورے اعتماد اور یقین سے عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے، چین یوریشیا لینڈ برج یا سینٹرل ایشیا، ویسٹرن کاریڈور کے حصول میں کامیاب نہ بھی ہو سکا، تو گوادر کی بندرگاہ چین کو وہ سارے مواقع فراہم کرتی ہے، جو اس کے ان دونوں پراجیکٹس کے اہداف کا حصہ ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، حکومت چین، حکومت پاکستان، سلک روڈ فنڈ، چائنا اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج، چائنا ایکسپورٹ بنک، چائنا انوسمنٹ کارپوریشن اور چائنا انوسٹمنٹ بنک کے اشتراک سے شروع کیا جانے والا ایک کثیر الجہتی منصوبہ ہے۔ چین نے اس کے لیے مختصرمدتی، درمیانی مدتی اور طویل المدتی اہداف متعین کیے ہیں۔ مختصرمدتی اہداف میں پاکستان اور چین کے درمیان موجودہ انفراسٹرکچر کے ذریعے کراچی پورٹ کے ذریعے نقل و حمل کی سہولتوں سے استفادہ کرناہے۔ طویل مدتی اہداف میں چین اور پاکستان کے درمیان مغربی روٹس، جو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ذریعے گوادر کو منسلک کرنا ہے اور اس روٹ کے ہمراہ ریلوے لائن، پائپ لائن اور مقامی صنعتی انفراسٹرکچر کا قیام ہے۔ چین کی طرف سے چین کے ٹرانسپورٹ سے متعلق متعدد ادارے اس پراجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے شریک کار ہیں۔ یہ انگریزی زبان Y کے حرف سے مشابہ پراجیکٹ ہے، جس کی چھ مزید ذیلی راہداریاں ہیں۔ اوبر پراجیکٹ میں چین، پاکستان تجارتی راہداری کو اس وقت انتہائی ترجیحی درجہ حاصل ہے۔ 47 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گوادر کاشغر تک 2000 کلومیٹر طویل شاہراہ اور توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس سے چین کو عالمی تجارت میں صرف نقل و حمل کے شعبے میں سالانہ 20 ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔ آبنائے ملاکا سے اس کے ذریعے مسافت 45 دن سے کم ہو کر دس دن رہ جائے گی۔ سی پیک پراجیکٹ پاکستان میں بجلی کی پیداوار، نئے صنعتی زونز کا قیام، زراعت، بائیو ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، ایل این جی پائپ لائن اور دیگر پراجیکٹ کے ذریعے نہ صرف ملک کی ترقی کا ذریعہ بنے گا بلکہ اس سے پاکستان میں روزگار کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایک تخمینہ کے مطابق سی پیک پراجیکٹ 70 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیداکرے گا۔ اس پس منظر میں اوبر پراجیکٹ میں چین 6 تجارتی راہداریوں میں سے کم از کم تین، یوریشیا، برج، سینٹرل ایشیا، ویسٹ ایشیا اور میانمار، بھارت راہداریوں کے لیے سی پیک متبادل امکانات پیدا کرتے ہوئے قابل عمل رسائی فراہم کرنا ہے۔ اوبر پراجیکٹ پاکستان کو روس، پولینڈ، بائلوروس، لتھونیا، لٹویا، منگولیا، قازقستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزیہ جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی، صنعتی اور تکنیکی تعاون کے نئے امکانات سے بھی روشناس کرائے گا، بشرطیکہ وہ وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی، افغانستان اور بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کی تشکیل نو کے لیے اقدامات کرسکے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا یہ کہنا انتہائی اہم ہے کہ ’’سی پیک پراجیکٹ،
دو طرفہ تعلقات کو جیوپولیٹیکل سے جیواکنامک بننے کا عمل ہے۔‘‘ پاکستان کے لیے یہ بھی انتہائی اہم ہے کہ وہ صوبائی رابطہ کی وزارت اور مشترکہ مفادات کونسل کو ذمہ داریاں سونپے کہ وہ پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سی پیک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اقدامات اور ترجیحات کا تعین کریں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں میں سی پیک کے حوالے سے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جو اس سلسلہ میں حکومت کے لیے تجاویز، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے مرتب کریں۔ اس حوالے سے سب سے اہم پبلک/ پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی سی پیک مینیجمنٹ کارپوریشن کا قیام ہے، جو پاکستان کے کاروباری اور تجارتی اداروں کے لیے مواقع پیدا کر سکے۔ اوبرا پراجیکٹ بین الاقوامی تعلقات میں عظیم الشان تبدیلیوں کا موجب ہو گا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد گلوبلائزیشن کے تصورات میں، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور اس کی قیادت کی جانب سے یہ ایک اہم پہل کاری ہے، جو عالمگیریت کے لیے نئے اصول متعین کرے گی۔

 27۔پہچان شعر یا تحریر؟

 الف: پہچان تحریر

قرانِ مجید کا بہترین شاہکار

میری ناقص عقل جس چیز کو قرانِ مجید کا بہترین شاہکارسمجھنے پر آمادہ ہے, میں اسے دوستوں سے ضرور شئیر کرنا چاہوں گا۔  قرانِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر طرح طرح کے مناظرے کئے ہیں، خاص طور پر جب محشر کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدانِ محشر کر طرف لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قران میں ہر جماعت کے معاملات بیان کئے ہیں، ان جماعتوں میں ایک گناہ گار جماعت شامل ہے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، ایک دوسری جماعت جو پرہز گاروں کی ہو گی جن کے چہرے روشن ہوں گے اور ایک تیسری جماعت جو سب سے آگے بڑھ جانے والی جماعت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان جماعتوں کے  آپس میں بحث و تکرار کو بھی قلم بند کیا ہے ۔ یہ بحث و مباحثہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

اور جب وہ دوزخ کو اپنے سامنے دیکھ لیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں ڈالے جانے والے ہیں تو ہرگناہ گار جماعت طرح طرح کے عذر پیش کرے گی تاکہ کسی نہ کسی طرح دوزخ کے عذاب سے بچ جائے۔ ایک جماعت کہے گی کہ یا اللہ یہ ہمارے بڑے ، ہمارے عالم، ہمارے حکمران، ہمارے آباؤ اجداد، دوست احباب خواہ کوئی بھی جماعت جس نے ان کو بہکایا ہوگا وہ اس کے بارے میں کہیں گے کہ انہیں دوگنا عذاب دیا جائے کیوں کہ انہوں نے ان کی زندگی اور آخرت تباہ کر دی۔ اللہ فرمائے گا کہ ان کو بھی دگنا عذاب اور تم کو بھی دگنا عذاب تم عقل نہیں رکھتے تھے۔ یوں ہر جماعت اس طرح کے عذر قبول نہیں کئے جائیں گے۔

ایک اور جماعت کہے گی کہ یا اللہ ہم سے ہماری زمینیں، جائیدادیں، جاگیریں، سونا وچاندی، کاروبار، بال، بچے اور اہل خانہ خواہ جو کچھ بھی ان کی ملکیت ہو وہ سب لے لیا جائے اور کسی طرح ان کی جان بخشی کر دی جائے۔ اس دن صرف اعمال کے سودے ہوں گے اور کسی سے ان کی ملکیت کا کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ایک اور جماعت یہ کہے گی کہ یا اللہ اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں جانا نصیب ہو تو ہم بھی نیک اعمال کریں اور گمراہوں میں نہ ہوں۔ تو ان کی یہ درخواست بھی رد کر دی جائے گی۔ ایک اور جماعت یہ کہے گی کہ یا اللہ ہمیں تو شیطان نے گمراہ کر دیا تھا، تو شیطان جواب دے گا کہ یا اللہ مجھ میں طاقت نہ تھی کہ ان سے کوئی گناہ کروا سکتا میں انہیں دور سے بلاتا تھا اور یہ خود ہی دوڑے چلے آتے تھے۔ تو اس جماعت کا یہ عذر بھی جاتا رہے گا۔یہاں تک کہ ہر گناہ گار جماعت کے ہر طرح کے عذر ان کو واپس کر دیے جائیں گےاور گناہ گار انسان یا جماعت کے ہاتھ میں صرف مایوسی اور بے بسی ہی رہ جائے گی۔

اب گناہ گار انسان یا جماعت کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب سارے عذر ختم ہو گئے ہیں اور بچنے کی کوئی تدبیر باقی نہیں رہی اور اب اس کا ٹھکانہ صرف دوزخ ہے ۔ اور جب دوزخ کے داروغہ انہیں دوزخ کی طرف ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے، اور ان کے چہروں پر رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اور ان کے دل اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سے پھر ہم کلام ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس وقت تمہاری ذات جس قدر بیزار ہو رہی ہے کہ دوزخ میں ڈالی جائے گی، اللہ کی ذات اس سے کئی گناہ زیادہ بیزار ہوتی تھی جب تمہیں ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کی راہ اختیار کیاکرتے تھے۔

تصنیف:  بیسٹ لائف نوٹس

مصنف و مرتب : میاں وقارالاسلام
جلد: 1

ب: پہچان حمد

حمد باری تعالی

پھیلا ہوا ہے چار سُو یہ رَب کا نور ہے
میں کیا ہوں مجھ کو کس لئیے خود پر غرور ہے

مجھ بے خبر کو آج تک اپنی خبر نہیں
میرے لہو میں دوڑتا رَب کا شعور ہے

حیراں ہے عقل اُس کی عطاﺅں پہ ہر گھڑی
یوں نعمتوں میں بھر دیا رَب نے سرور ہے

رُوشن کتاب خیر و بقاء کی نوید ہے
بے علم اِس کی رحمتوں سے کتنا دور ہے

بدکار ، گناہگار پہ اپنا فضل کیا
توبہ کے در پہ ہوں کھڑا کہ وہ غفور ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

تصنیف: من کٹہرا

حمد باری تعالی

زباں ذکرِ الہی سے کبھی خالی نہیں ہوتی
ہوں جیسے بھی مرے حالات بدحالی نہیں ہوتی

یہاں زندہ دلوں پر ہی تو خوشیاں راج کرتی ہیں
اگر چھائی ہو مایوسی تو خوشحالی نہیں ہوتی

کبھی مردہ دلوں کی حسرتیں پوری نہیں ہوتیں
مگر ایمانِ کامل سے بداعمالی نہیں ہوتی

اگر منزل ہی باطل ہو ڈگر سیدھی نہیں ہوتی
مسافت راہِ حق پر ہو تو پامالی نہیں ہوتی

یہاں نظرِ جہاں دیدہ بہت مسرور ہوتی ہے
بدل ڈالے اگر دل سمت ہریالی نہیں ہوتی

شاعر: میاں وقارالاسلام

تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

شاید عمل یہ میرا پسندیدہ نہیں ہے
مایوسیوں سے آنکھ یہ نم دیدہ نہیں ہے

میں کیسے بڑھوں آگے نظر کچھ نہیں آتا
اندھی ہے عقل کیونکہ جہاں دیدہ نہیں ہے

نظریں چرا کے یاں سے چاہوں گا میں گزرنا
رب سے یہ جانو کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں ہے

عاصی نے بھی اپنے پر ہیں ظلم بہت ڈھائے
اور اپنے کیے پر بھی رنجیدہ نہیں ہے

توبہ تو کر لی ڈر کر رب سے وقار تو نے
لگتا ہے تیرا دل تو سنجیدہ نہیں ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

چاہا ہم نے سورج کو بھی
چاند سے ہم نے الفت کی ہے

عکس خدا کا ہر ذرے میں
ذروں نے بھی عبادت کی ہے

حیا پروئی ہے نظروں میں
ہر انسان کی عزت کی ہے

اہل وفا سے دنیا بھر کے
ہر باسی نے شرارت کی ہے

رب سے پیار کیا ہے جس نے
اس نے سب سے محبت کی ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

تصنیف: سوزِ محشر

حمد باری تعالی (نظم)

اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے شکر پہ نہ جا مولا
میرا شکر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے صبر پہ نہ جا مولا
میرا صبر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے ذکر پہ نہ جا مولا
میرا ذکر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میری نذر پہ نہ جا مولا
میری نذر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میری فکر پہ نہ جا مولا
میری فکر ہے ہی کیا مولا

شاعر: میاں وقارالاسلام

تصنیف: شہرِداغدار

ب: پہچان  غزلیں

اُبھرتے سورج کا سلام تیرے نام کر دیتا
دن کے سارے تام جھام تیرے نام کر دیتا

سردیوں کی دھوپ ساری گرمیوں کی چھاﺅں بھی
موسموں کی سرد شام تیرے نام کر دیتا

اختیار ہوتا گر اس بہار پر میرا
رنگ و بو کے انتظام تیرے نام کر دیتا

دل کی کیفیت کو میں جب بیان کر سکتا
حسرتوں کے سب کلام تیرے نام کر دیتا

قید میں جو کر سکتا ان حسین لمحوں کو
آنے والے سب ایام تیرے نام کر دیتا

شاعر: میاں وقارالاسلام

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

دل کی بازی میں تم سے ہار بیٹھا تھا
باز تو پھر بھی اے بازی گر نہیں آیا

دیارِ بے خبر سے ناداں کو میرا تجسس تھا
پر اِدھر بھولے سے بھی وہ بے خبر نہیں آیا

اُسے گلہ ہے میں نے بھلا دیا اُس کو
کیسے اُسے بتاﺅں کب اُس کا ذِکر نہیں آیا
تیرے بغیر در بدر کتنا چلیں گے اب وقار
ہم پہ ٹوٹا قہر جو تجھ کو نظر نہیں آیا

شاعر: میاں وقارالاسلام

یہ جدائی تو بہت مشکل ہے
میرے ہمدم ترے وصال کے بعد

سال گذرا ہے سال گذرے گا
تم تو آﺅ گے ایک سال کے بعد

میری آنکھیں تو بھیگ جاتی ہیں
پھر سے تیرے حسیں خیال کے بعد

دوستی کی مثال کیسے دوں
میرے ہمدم تری مثال کے بعد

میرے سارے جواب ہار گئے
ترے اک لاجواب سوال کے بعد

شاعر: میاں وقارالاسلام

کیسی زمیں کیسا آسماں یارب
عجب حیرت کا مکاں یارب

کوئی تو ہے فرشتہ یہاں
اور کوئی ہے شیطاں یارب

دل اسی بات کو سمجھ نہ سکا
کسے کہتے ہیں انساں یارب

یوں تو انسان نے ترقی کی
اور ہوتا گیا حیواں یارب

مجھے وہ قوتِ گویائی دے
جو ہو تیری بھی ترجماں یارب

شاعر: میاں وقارالاسلام

اُس کی آنکھوں پہ کیا کہا جائے
اُس کے ہونٹوں پہ کیا لکھا جائے

وہ تو ہے زندہ غزل کی صورت
اُس کے بارے میں کیا کہا جائے

اور کبھی بیٹھ کر اکیلے میں
اُس کی آواز کو سنا جائے

وہ اچھوتا خیال ہے اُس کو
خواب طرح سے بُنا جائے

یا کبھی دستِ دعا پھیلا کر کر
واسطے اپنے ہی مانگا جائے

شاعر: میاں وقارالاسلام

آسماں سر پہ کھڑا ہو جیسے
شہر ویران پڑا ہو جیسے

سر نگوں اس طرح ہے سارا نگر
کوئی احسان گڑا ہو جیسے

زندگی ایسا اک نگینہ ہے
دل مفلس میں جڑا ہو جیسے

اس طرح تجھ کو ہے محسوس کیا
تو میرے ساتھ کھڑا ہو جیسے

ایسا احساس دلاتا ہے بشر
سب فرشتوں سے بڑا ہو جیسے

شاعر: میاں وقارالاسلام

چند روز اپنی تم سے جو قربت نہیں رہی
تم سمجھے یہ کہ مجھ کو محبت نہیں رہی

گہرا ہے رگ و جان سے رشتہ تجھ سے
سوچا بھی کیسے تم نے کہ اُلفت نہیں رہی

اِس گردشِ دوراں نے چکرا دیا مجھے
اور مجھ میں سنبھل جانے کی طاقت نہیں رہی

کیا شام ڈھل گئی کسی سائے کی طرح سے
یا دوستوں کو میری ضرورت نہیں رہی

دھاگوں سے زیادہ نازک رشتے ہیں اپنے دل کے
اُلجھے تو اِن کی پہلی سی صورت نہیں رہی

شاعر: میاں وقارالاسلام

تم میری محبت ہو میری سزا نہیں ہو
اک بار کہہ دو مجھ سے کہ تم خفا نہیں ہو

تیرا خیال میری راتوں کا ہمسفر ہے
ان رت جگوں سے پوچھو کہ تم تنہا نہیں ہو

میں تیرے بعد کتنا بے آسرا ہوا ہوں
اپنے ہی دل سے پوچھو تم بے آسرا نہیں ہو

اس بے رخی پہ میری تم بھی تو روٹھتے ہو
پرواہ نہیں جو مجھ کو تم بے پرواہ نہیں ہو

مانا خطائیں میری بے حد شمار ہوں گی
میں بھی نہیں فرشتہ تم بھی خدا نہیں ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام

بتائیں یہ کیسے کہ جذبات کیا ہیں
زباں پہ یہ اٹکی ہوئی اک صدا ہیں

یہ قطرے جو پلکوں پہ ٹھہرے ہوئے ہیں
مسلسل مرے ضبط کی انتہا ہیں

مجھے مثلِ شمع جلاتی ہیں شامیں
یہ دن ہجر کے بھی صبر آزما ہیں

جھکائیں جو پلکیں تو میں نے یہ دیکھا
کوئی بھی نہیں آپ جلوہ نما ہیں

مری شعر گوئی ہے ذکرِ مسلسل
نمازیں مری تیرے حق میں دعا ہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

ذہنوں کو نئی سوچ نرالے خیال دے
یہ شہر داغ دار ہے اِس کو اُجال دے

کیوں قوم بھول بیٹھی ہے اپنی اَساس کو
فرعونیت کو سب کے دلوں سے نکال دے

اِس نے بھلا دیے سبھی افکار اور ہنر
یہ قوم لازوال ہے اِس کو کمال دے

کامل تھا تیرا دین ہے گیا عاملوں کے ہاتھ
بوجہل کو ہمارے سروں سے تو ٹال دے

جانے کیوں لےاُڑی ہے خزاں موسمِ بہار
پھولوں سے خوشبیوں سے چمن کو جمال دے

شاعر: میاں وقارالاسلام

شام و سحر پہ میرے حصے لکھے ہوئے ہیں
ڈھلتے لمحوں پہ میرے قصے لکھے ہوئے ہیں

میرا حال و ماضی میں نے لکھا ہے
باقی افسانوں کے عرصے لکھے ہوئے ہیں

میری غزلیں میرے من کے قصے ہیں
غم جو بھلائے پھر سے لکھے ہوئے ہیں

مردہ دلوں کی آنکھ میں آنسو کب آتے ہیں
سوکھا میرا دامن برسے لکھے ہوئے ہیں

میری زمین بھی مجھ کو کتنا کھا پائے گی
سارے بدن پہ میرے ورثے لکھے ہوئے ہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

ت: پہچان  نظمیں

بس اتنی دعا ہے میری

سینے میں غم برابر نہیں
چشمِ پُرنم برابر نہیں
بس اتنی دعا ہے میری
جب اشک پیمانے کھلیں
تم پہ صبر دھانے کھلیں
تم آنسو ﺅں کو پی سکو
تم غموں میں جی سکو

کون غموں سے ابتر نہیں
زندگی پھولوں کا بستر نہیں
پھرسے جینے کا راستہ دے
خدا یا باقی سفر آراستہ دے

بس اتنی دعا ہے میری

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

دل آج بھی مقروض ہے

ریت کے گھروندوں کا
ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا
کاغظ کے بیڑوں کا
بارش کے ریلوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

چمکتے ہوئے جگنوﺅں کا
رنگ برنگی تتلیوں کا
کمسن کھلتی کلیوں کا
نِت نئی بہاروں کا

دل آج بھی مقروض ہے

کچے پکے خوابوں کا
بھولی بسری یادوں کا
کٹھی میٹھی باتوں کا
بے نام رشتوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

بن مانگی دعاﺅں کا
تسلسل سے عطاﺅں کا
بے بہا رحمتوں کا
بے شمار نعمتوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

آنکھوںکے سمندر کا
اُمنڈتے قیمتی اشکوں کا
چھلکتے انمول موتیوں کا
بھیگتے کانپتے ہونٹوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

ماں کی محبت کا
باپ کی شفقت کا
بے پناہ اُلفت کا
دونوں کی عظمت کا

دل آج بھی مقروض ہے

ہر روز کی خطاﺅں کا
چھوٹی موٹی سزاﺅں کا
ہلکی پھلکی آہوں کا
محفوظ پناہوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

اُلٹے پھلٹے لفظوں کا
ٹوٹے پھوٹے شعروں کا
ٹیری میڑی باتوں کا
بے عنوان تحریروں کا

دل آج بھی مقروض ہے

کاغذ میں لپٹے خیالوں کا
پل میں گزرے سالوں کا
سوزِعشق کے احوالوں کا
دل میں پھوٹے چھالوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

تم شاعری سمجھتے ہو

اپنے احساسات کو
تحریر کیا ہے
میں نے جذبوں کو
الفاظ پہنائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

میں خوشبو کی طرح
بکھرا بھی ہوں
میں نے پھولوں سے
رنگ چرائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

ساون کی طرح
برسا بھی ہوں
ویران آنکھوں میں
آنسو سجائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

شمع کی طرح
دل جلایا ہے
پروانوں کی طرح
پرجلائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

چشمِ آوارہ

اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

یہ زیرِ جوبن
پڑی مدھوشیاں
یہ َادا میں اُمنڈتی شوخیاں
یہ مغرور سی طبیعت

لڑکھڑاتے ڈگمگاتے
بے سہارا
جذبوں کی لہر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

یونہی چلتے پھرتے
کسی دن
شام کے وقت
سوچ کی وادیوں میں
کہیں

مجھے دیکھ کے
چونکے گی
پچھلے پہر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

اے حسرتِ دلِ ناداں
تجھے بَر آنا ہے
تو اُٹھ جا
حالات سے لڑنا سیکھ

یہ داستان عشق بھی
رواج کے بھنور میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

ہاں اور ناں کی
زنجیر سے تم
باندھے رکھنا خیالوں کو

زندگی اسی کشمکش
کی زِیر و زَبر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا

محور تم ہو

جام ساغرِ حیات کی
سبھی لہروں بحروں کا
محور تم ہو
نشیب سے فراز تلک تم
رواں جھرنوں کا
محور تم ہو

مانندِ مہتابِ شبِ روشن تم
اور تیرا وصالِ جاں نثار
من کے سمندر میں
اُمنڈتے ہوئے طوفانوں کا
محور تم ہو

چنچل سی کہکشائیں
جب پھیلاتی ہیں
فلک پہ عروسی آنچل
گھٹا کے چلمن سے جھانکتے
اَنگنت ستاروں کا
محور تم ہو

مانندِ شمعِ فروزاں تیرا طلسم
اور محفلِ شب ِ غارت
جلتے ہوئے پروانوں کی
پتھرائی ہوئی آنکھوں کا
محور تم ہو

دل کی دھڑکنیں چلتی ہیں
جن مداروں پہ
تھم تھم کر
اُن اُونچے نیچے
ٹیڑھے میڑھے
راستوں کا
محور تم ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا