INTERVIEW

INTERVIEW

AN EXCLUSIVE INTERVIEW WITH MIAN WAQAR UL ISLAM

السلام و علیکم!

امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔ ہم نے تفکر ڈاٹ کام پر ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے تحت فیس بک کے گروپ “پہچان” میں پہلے انترویوز لگائے جایں گے  اور پھر تفکر ویب سائیٹ پہ اسی انٹرویو کو شائع کیا جائے گا جو بعد میں کتابی شکل میں بھی دستیاب ہو گا۔

اسی سلسلے میں آپ کے لئے ایک سوالنامہ تیار کیا گیا ہے ۔ ازراہِ مہربانی اسے اپنے جوابات سے نواز کر ہمیں واپس بھیج دیں تا کہ اسے پہچان اور تفکر کی زینت بنایا جا سکے۔

( اگر آپ ان پیج یا یونی کوڈ اردو میںلکھ سکیں تو بہت بہتر ہے ورنہ سادے کاغذ پہ خوشخط تحریر بھی قابلِ قبول ہے)اپنی کچھ تصاویر بھی ارسال کیجئے

پہچان(سوال نامہ)

1۔آپ کا پورا نام؟

میاں وقارالاسلام

2۔کوئی قلمی نام؟

نام تبدیل نہیں کیا

3۔کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

17 جنوری   1978 کو میری پیدائش  ایک ایسی فیملی میں جہاں اقدار اور اصولوں کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی تھی جس کی وجہ سے  مجھے ہمیشہ  اپنی فیملی کا تعارف کرواتے ہوئے  فخر محسوس ہوتا ہے۔ میرا تعلق تحصیل میلسی،  ضلع وہاڑی کی ایک سرائیکی آرائیں  فیملی سے ہے ۔ ہمارے اکثر رشتہ دار بنیادی طور پر زراعت کے پیشہ سے منسلک  ہیں۔  ہماری زیادہ تر زمینیں اپنے آبائی علاقہ جلہ جیم میں ہیں۔

4۔تعلیمی قابلیت؟

ماسڑ آف بزنس ایڈمنسٹریشن

5۔ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ابتدائی تعلیم اپنے  مقامی شہر میلسی کے گورنمنٹ پرائمری سکول میلسی سے حاصل کی، اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد سی کام اور ڈی کام  گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے مکمل کیا۔  ریگولر ایجوکیشن کی مکمل تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

6۔اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

انٹرنیشنل سکول آف مینجمنٹ سائنسز  (آئی ایس ایم ایس)،نیوپورٹ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، یو ایس اے

(لاہور کیمپس، پاکستان) سے  3/1998 – 12/1999  میں ماسڑ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ( مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم) کی ڈگری حاصل کی۔ 98-3  کے بیج میں/4.0  3.52 جی پی اے کے ساتھ اور فائنل ٹرم ، ایم آئی ایس میں  4.0/ 3.89 جی پی اے کے ساتھ نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ بہاؤدین زکریا یونیورسٹی، ملتان،کامرس ملتان پاکستان گورنمنٹ کالج سے 3/1996 – 3/1998 میں  بیچلر آف کامرس (مارکیٹنگ) کی ڈگری حاصل کی۔ (مارکیٹنگ اور سیلز پروموشن میں گروپ پوزیشن ہولڈر رہا)

کیریئر سرٹیفکیشنز: 2001/10 مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل (ایم سی پی) ونڈوز 2000 ایڈوانس سرور کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔2000/ 8   میں  انٹرنیٹ سروسس پرووائڈرز (آئی ایس پی) سیٹ اپ  میں لینکس ریڈ ہیٹ کے ساتھ (کاروٹ سسٹم ،  لاہور کیمپس سے پروفیشنل سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ 2000/ 6  میں سسکو سرٹیفائیڈ  نیٹ ورک ایسوسی ایٹ (سی سی این اے) ، سیکنڈ اور تھرڈ لیئر سسکو ڈیوائسس پر ہینڈز آن پریکٹس کے ساتھ سسکوکا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ 999/ 8  میں    انگلش لینگویج  سرٹیفکیٹ  (  جو برٹش کونسل  اور  نیوپورٹ یونیورسٹی کے زیر اہتمام تھا) حاصل کیا۔

7۔پیشہ؟

میں ایک پروفیشنل مینجمنٹ کنسلٹنٹ  ہوں اور گذشتہ کئی برس سے  مختلف سیکڑز میں اپنی خدمات سر انجام دے چکا ہوں جن میں پبلک پے فون سسٹم، پبلک ایڈریس سسٹم، پبلک سرویلنس سسٹم ، پاور ڈائیگنوسٹک سسٹم ، برڈ ر رپیلنٹ سسٹم، ٹرانزٹ میڈیا سسٹم، پبلک ڈسپلے سسٹم ، ملٹی پرپز ایلیویٹرز اینڈ لفٹرز، ملٹی پرپز سیکورٹی ڈورز، بیریرز اینڈ ٹرنسٹائلز ، مارکیٹ سروے، مارکیٹ ریسرچ،  کارپوریٹ ٹریننگ اینڈ ایچ آر ڈیویلپمنٹ، وومن ایمپاورمنٹ، چائلڈ لیبر، مائیکرو فنانس، لارج فارمیٹ پرنٹنگ، فارمیسی، ریئل اسٹیٹ، ٹرانسپورٹیشن اینڈ لاجسٹکس وغیرہ  اہم ہیں۔ بڑے کاروباری اداروں میں نئی ​​ٹیکنالوجیز متعارف کراونے کا ایک کامیاب  ٹریک ریکارڈ ہے، جن میں کئی ملٹی ملین ڈالرز پراجیکٹس شامل ہیں۔دنیا بھر کی  متعددمعروف  کمپنیوں کی جدید ایجادات  پر ریسرچ بھی کی ہے۔ پاکستان کے لیے بہت سی بین القوامی کمپنیوں کی نمائندگی بھی حاصل کی اور پاکستان میں  ان کے پراڈکٹس اور ٹیکنالوجیز کو متعارف بھی کروایا۔ بہت سی ایگزیبیشنز میں بھی حصہ لیا جن میں  کیریئر ایگزیبیشنز ، صنعتی ایگزیبیشنز ، پاور اینڈ انرجی ایگزیبیشنز ، پراپرٹی  ایگزیبیشنز ، ایجوکیشنل ایگزیبیشنز ، پاک چین ایگزیبیشنز ، پاک بھارت ایگزیبیشنز ، اور آرٹ اینڈ کلچرل ایگزیبیشنز  وغیرہ شامل ہیں۔ انٹرنیشنل ایگزیبیشنز میں شرکت کے لیے کمپنیز کوباقاعدہ کنسلٹنسی بھی فراہم کی۔گوادر، مری لاہور، اسلام آباد، ملتان اور دیگر علاقوں کے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس کو پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور یورپ  اور دیگر ممالک میں انٹرنیشنل مارکیٹنگ نیٹ ورک کے ذریعے متعارف بھی کروایا اور پاکستان میں کئی ملین ڈالرز کی انوسٹمنٹ کروائی۔ کئی کاروباری سیمینارز، ورکشاپس، نیو پراڈکٹ لانچ،  سی ای او فورمز  وغیرہ کا   بھی اہتمام کیا۔ پریس ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے لئے  کور سٹوریز، میڈیا  رپورٹس،  انٹرویو ز اورسکرپٹ  وغیرہ بھی لکھے۔

اہم سنگ میل: 2017     -ADRP                              ال دوسر  واٹر، پاور اینڈ کیمکلز ریسرچ پروگرام2016     -BRRP                برڈ ر رپیلنٹ سسٹم  ریسرچ پروگرام2015     -SERP                   سولر انرجی ریسرچ پروگرام 2014     -PDRP                پاور ڈائیگنوسٹک سسٹم ریسرچ پروگرام2013     -PARP                پبلک ایڈرس سسٹم ریسرچ پروگرام2012     -THRP                ٹیکنیکل ایچ آر ڈیویلپمنٹ پروگرام2011     -GIRP                  گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ریسرچ پروگرام2010     -HRBP                              ہائی رائز بلنڈنگز ریسرچ پروگرام2009     -GPRP                گوادر پراپرٹی ریسرچ پروگرام2008     -CVRP                               کارپوریٹ ولاز ریسرچ پروگرام2007 GPRP-                      گوادر پورٹ ریسرچ پروگرام2006 HRRP-                     ہیومن ریسورس روبوٹکس ریسرچ پروگرام2005 MFML-                   مائیکرو فنانس اینڈ مائیکرو لیز 2004 GTRP-                      گرافکس ٹیکنالوجیز ریسرچ پروگرام2003 IFMS-                      انٹرنیشنل فرنچائزنگ منیجمنٹ سسٹم2003 WTRP-                    وائرلیس ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام2002 -ASRP                     ایڈوانس سرور ریسرچ کے پروگرام2001 USCS-                      یونیورسلی سسٹین ایبل کمپیوٹر سویٹ2000 APMS-                     ایریا  پے فون مینجمنٹ سسٹم

8۔ ادبی سفر کا اآغاز کب ہوا؟

میری گُم نام شاعری کا آغاز تو شاید میرے ہوش سنبھالتے ہی میرے لاشعور کے کسی کونے میں ہو چکا تھا۔ یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ جواں ہوتے احساسات اور جذبات میں رنگتا گیا۔ 1993 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز  کیا، اُس وقت میری عمر تقریباِ  16 سال کے لگ بھگ تھی اور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔

9۔اگر آپ شاعر ہیں تو نظم اور غزل میں کس شاعر سے متاثر ہوئے؟

ادب کی دنیا بہت وسیع ہے ، ادب کے آسمان پر ان گنت ستارے ہیں، ہر ستارہ اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہے ، جسے دیکھیں اس کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔  اٹھارویں صدی سے شرو ع کریں تو میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی،  مرزا اسد اللہ خاں غالب،  محمد ابراہیم خان، ذوق اور بہادر شاہ ظفر جیسے بڑے نام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انیسویں صدی میں جھانکیں تو  امیر مینائی، داغ دہلوی، الطاف حسین حالی،  شبلی نعمانی، اکبر الہ آبادی،  حسرت موہانی، جگر مراد آبادی اور جوش ملیح آبادی جیسے نام نظر آتے ہیں۔  آگے چلتے ہیں تو فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، استاد دامن، حبیب جالب، ناصر کاظمی، منیر نیازی، مصطفیٰ زیدی ، احمد فراز، کشور ناہید، غلام محمد قاصر، پروین شاکر، ثمینہ راجہ، نوشی گیلانی  اور ڈاکٹرشہناز مزمل جیسے کئی نمایاں نام  نظر آتے ہیں،  کس کا نام رکھیں اور کس کا چھوڑ دیں، ادب کے آسمان میں سب کا اپنا اپنا مقام ہے۔    نئے لکھنے والے ادب کے نئے افق تلاش کر رہے ہیں۔

10۔کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟

ڈاکٹر شہناز مزمل کی رہنمائی ہر موڑ پر حاصل رہی ہے۔

11۔ادب کی کونسی صنف زیادہ پسند ہے؟

نثر ی ادب میں ناول، افسانہ، تنقید، کالم، نثر، کہانی، ڈراما، فلم، پیروڈی، سفرنامہ اورسوانح حیات وغیرہ سب کا اپنا مقام اور اپنی اہمیت ہے۔ اسی طرح  شاعری میں چند اصناف نظم، نثری نظم، نظم معری، آزاد نظم، غزل، گیت، شعر، قطعہ، رباعی، سہرا، مسدس، مخمس، لوری، ڈوھڑا (صرف سرائیکی میں)، ، کافی، قصیدہ، نعت، حمد،مرثیہ،  وغیرہ سب کی اپنی اپنی اہمیت اور اپنا اپنا مقام ہے۔ آج کل جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہم تک ادب کی رسائی خاصی آسان ہو گئی ہے۔ ادب بھی علم کے خزانوں میں سے ایک خزانہ  ہے اور خزانہ جیسا بھی ہو خزانہ ہی ہوتا ہے۔ کوئی صنف کسی سے کم نہیں ، ادب کا کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں۔ ادب تو پھر ادب ہے، بعض دفعہ کوئی عام سے بات جو کہ کسی بھی ادبی صنف کی پابند نہیں ہوتی، دل میں گھر کر سکتی ہے، بات میں جان ہونی چاہیے ، بات اپنا رستہ خود بنا لیتی ہے۔ میں ادب کو اصناف میں تقسیم کر کے نہیں دیکھتا ، میں ادب میں جمعیت کا قائل ہوں ، اچھا کام کسی بھی صنف میں ہو انسان پسند کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔

12۔ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

نثر ی ادب میں اسلامی و مذہبی مضمون،  تنقید، کالم، انٹرویوز، سکرپٹ، ریسرچ پیپرز ،نثر، کہانی، پیروڈی، سفرنامہ اورسوانح حیات وغیرہ   اور شاعری میں نظم، نثری نظم ، آزاد نظم، غزل، نعت اور حمدوغیرہ پر کام کرنے کی کوشش کی ہے۔

13۔شعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

میری پہلی  کتاب کا نام “من کٹہرا “تھا جو سال9 200   میں منظر عام پر آئی ۔ کتاب کی رو نمائی ہوٹل سن فورٹ لاہور میں ہوئی اور پروگرام کی صدارت ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ نے کی۔  میری دوسر کتاب کا نام “مثلِ کلیات”تھا  جو 2014 میں مکمل ہوئی۔ میری تیسری کتاب کا نام “شہرِ داغدار” ہے جو کہ 2016 میں مکمل ہوئی ہے۔ میری چوتھی کتاب جو کہ ابھی زیرِ طباع ہے اس کا نام “سوزِ محشر ” ہے۔ “مثلِ کلیات”  محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی 30 کتابوں سے شاعری کا ایک مجموعہ ہے۔ “مثلِ کلیات”   میں ڈاکٹر شہناز مزمل کی شاعری  کے علاوہ  ان کے ساتھ اور ادب سرائے  انٹرنیشنل (دنیا میں معروف اردو ادبی فورم)  کے ساتھ میرا  15 سالہ ادبی سفر نامہ بھی ہے ۔میری تین کتابیں:  1۔”من کٹہرا” 2۔” شہرِ داغدا ر”  اور 3۔ “سوز محشر ” تینوں مل کر  ایک عظیم تصور “اسلامک وے آف لائف”  کو بیان کرتی ہیں۔  “من کٹہرا”   ہمارے خود کو سمجھنے کے بارے میں ہے کہ ہم کس طرح بنائے گئے ہیں۔ “شہرِ داغدار” ہماری کائنات کے بارے میں  ہے کہ کس طرح کائنات تخلیق ہوئی ہے۔ “سوزِ محشر”  قیامت کے دن کے بارے میں ہے کہ زندگی کے بعد کیا ہو گا۔ مزید یہ کہ یہ تینوں کتابوں بالترتیب ” نفسِ امارہ” ، “نفسِ لوامہ ” اور نفس متمعئنہ  پر بھی بات کرتی ہیں۔

14۔نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

اردو کی  شاعری کی کتابوں  کو علاوہ  میری ایک اردو کتابوںسیریز بھی ہے جس کا نام ہے “بیسٹ لائف نوٹس”

لائف بیسٹ نوٹس اپنی نوعیت کا ایک منفرد کتابی سلسلہ ہے۔ ان کتابوں  میں میری زندگی کے بہترین نوٹس کی کولیکشن ہے۔ کچھ نوٹس قرانِ مجید کے بارے میں ہیں یعنی جب میں قران پہلی دفعہ پڑھا تو کیا محسوس کیا اور بار بار پڑھنے کے بعد کس نتیجے پر پہنچا۔ پھر کچھ نوٹس حضرت محمدؐ کی ذاتِ اقدس کے حوالے سے ہیں، کچھ انؐ کی زندگی کے اہم پہلوؤں پر اور کچھ انؐ کے آخری خطبہ کے بارے میں۔

اسی طرح قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی کے کچھ اہم واقعات پر کچھ نوٹس میں اور کچھ علامہ اقبال ؒ کی زندگی کے حالات و واقعات پر شامل کیا ہے۔ پھر کچھ مولانا رومی کی حکایتیں اور کچھ دیگر مثالیں وغیرہ جن سے زندگی کے رہنما اصول ڈھونڈے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایک واقعہ مرحوم اشفاق احمد صاحب کی کتاب زاویہ سے بھی لیا گیا ہے۔

کچھ نوٹس میرے پروفیشن اور بزنس کے حوالے سے ہیں ، جو میں نے مختلف شخصیات کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کے دوران قلم بند کئے تاکہ انہیں مزید لوگوں کی رہنمائی کے لئے سامنے لایا جا سکے۔ اسی طرح کچھ نوٹس کا تعلق میرے ادبی اور تعلیمی سفر سے ہے ، جو آج بھی میری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔

کچھ نوٹس کا تعلق پاکستان کے تاریخی، معاشی اور سیاسی پس منظر سے ہے۔ جن میں گوادر سی پورٹ، پاک چین اکنامک کوریڈور، پاک چین سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات اور پاکستان کے موجودہ اور مستقبل کے اہم ترقیاتی منصوبوں وغیرہ کی تفصیل شامل ہے۔ ان میں سے اکثر نوٹس ، میری گوادر سے متعلقہ اہم پبلیکیشنز سے ہے۔

اب تک بیسٹ لائف نوٹس میں 100 سے زیادہ لوگ اپنا کم یا زیادہ حصہ ڈال چکے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اب تک اس کی 7 جلد مکمل ہو چکی ہیں ، میری ارادہ اس سلسلے کو 10 جلد تک مکمل کرنے کا ہے۔ اس سلسلے کے آخری ایڈیشن پر بھی کام شروع کر دیا ہے جس کا نام “بیسٹ لائف کوٹس” ہے۔ اس حصہ میں انتہائی مختصر کوٹس ہیں، دو یا تین لائنز کی، جن کا زیادہ تر مواد پہلے سے مرتب شدہ نوٹس میں سے ہی ہے۔

گوادر سے متعلقہ پبلیکیشنز

اردو کی کتابوں کے علاوہ میری  10 دیگر کتابیں ہیں، جن میں  9 گوادر “نیوز بکس”  شامل ہیں اور ایک گوادر “ہینڈ بک” شامل ہے۔  یہ کتابیں  150 سے زیادہ نیشنل اور انٹرنیشنل نیوز پیپرز سے نیوز کا تحقیقی مجموعہ ہے۔ نیوز کولیکشن کا تعلق براہ راست گوادر کے تمام میگا پراجیکٹس  اور  گوادر ڈیپ سی پورٹ سے ہے۔  علاوہ ازیں چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق بھی بہت سی نیوز شامل ہیں۔” گوادر ہینڈ بک”  میں ضلع گوادر کی اہم معلومات  گوادر پورٹ کی تفصیلات، اہم پراجیکٹس، گوادر کا تصویری سفر ، اہم نقشاجات، اہم اقدامات، اہم بیانات اور گوادر میں مستقبل کے منصوبوں کا احاطہ وغیرہ سب شامل ہے۔

15۔اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیے؟

آباؤ اجداد کی تاریخ: ہماری معلومات کے مطابق ہمارے آباؤ اجداد کی تاریخ حکیم میاں جلال الدین لاہوری سے شروع ہوتی ہے۔  حکیم میاں جلال الدین لاہوری، مغلیہ سلطنت کے سرکاری حکیم تھے ، اس کے علاوہ مغل سلطنت کے سیاسی اور مذہبی مشیر بھی تھے۔  شہنشاہ  محمدجلاال الدین اکبر تیسرا مغل شہنشاہ  تھا ۔ جب اس نے 1582ء میں دینِ الہٰی  متعارف کرایا تو مختلف مسلم علماءکرام کے ساتھ حکیم میاں جلال الدین نے بھی اس کی بھر پور مخالفت کی اور یہ کہ کر بادشاہ کو چھوڑ دیا کہ یہ اسلام کی توہین ہے۔  حکیم میاں جلال الدین اس کے بعد لاہور منتقل ہو گئے اور اپنی حکمت لاہور میں ہی شروع کر دی۔ بادشاہ جہانگیر چوتھا مغل بادشاہ تھا  اور  اپنے باپ کے برعکس  ایک روایتی مسلمان تھا۔ لیکن پھر بھی اس نے دینِ الہٰی  پر اصرارکیا۔ شیخ احمد (مجدد الف ثانی کے طور پر جانے جاتےہیں) نے بھرپور مخالفت کی اور حکم ماننےسے انکار کر دیا۔جس کے نتیجے میں انہیں گوالیار فورٹ میں قیدکر دیا ۔ حکیم میاں جلال الدین نے مکمل طور پر شیخ احمد کی تحریک میں حصہ لیا۔ تاہم  دو سال بعد ہی شہنشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔  بادشاہ جہانگیر  نے پھر صرف شیخ احمد کو رہا ہی نہیں کیا بلکہ واپس  آگرہ  بھی بلا لیا اورتمام غیر اسلامی قوانین جو شاہ محمد اکبر کی طرف سے لاگو تھے وہ بھی ختم کر دیے۔بادشاہ جہانگیر نے حکیم میاں جلال الدین لاہوری کی سابقہ  خدمات کے بدلے میں انہیں پرگنا ہانکڑا  میں 10،000 ایکڑ اراضی سے نوازا۔  حکیم میاں جلال الدین لاہوری نے اپنی رہائش اور سیکورٹی کے لئے 20 کنال فورٹ تعمیر کیا۔ حکیم میاں جلال الدین لاہوری نے اپنی باقی زندگی مقامی لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔  انہوں نے تبلیغ کی اور علاقے میں اسلام کو فروغ دیا. اس علاقے میں ہندؤں  اور سکھوں کی اکثریت تھی اور مسلمان اکثر تنازعات کا شکار ہوتے تھے۔  انہوں نے مسلم کمیونٹی کی حمایت اور سپوٹ کا کام شروع کیا۔  حکیم میاں جلال الدین لاہوری  اور ان کی فیملی جنجوعہ آرائیں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ حکیم میاں جلال الدین لاہوری کے بعد ان کی فیملی نے مسلم کمیونٹی کی سپورٹ اور دیگر فلاح کے  کاموں کو جاری رکھا ۔ اسلامی جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا، مختلف لڑائیوں میں مسلمان شہید ہوتے رہے جس کے نتیجے میں اس علاقے میں شہیدا کے نام پر 9 قبرستان قائم ہوئے جن کے نام یہ ہیں۔ 1۔ نورن شہید ،2۔ شادن شہید، 3۔ ابراہیم جتی ستی،  4۔ عالم شاہ، 5۔ محمدشاہ، 6۔ گل چند شہید، 7۔ حافظ اللہ بخش، 8۔ال بخش اور  9۔  جدے والا     آج یہ علاقہ جلہ جیم کے نام سے مشہور ہے۔ یہ نام میاں جلال الدین کے نام سے منسوب ہے۔1050  ہجری میں  میاں جلال الدین لاہوری  کے بیٹے حکیم رکن الدین  نے بادشاہی جامع مسجد جلہ جیم کی تعمیر کی۔ تمام تاریخی قبرستانوں، بادشاہی جاما مسجد اور فورٹ کی نشانیاں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ میاں جلال الدین سے میرے دادا حکیم میاں قمر الزمان سکلینی تک: ہمارے بزرگوں نے جلہ جیم کی سیاسی، سماجی اور حکمت کے لحاظ سے خاطر خواہ خدمت کی ہے۔ میاں جلال الدین سے میرے دادا حکیم میاں قمر الزمان سکلینی تک ہمارے بزرگوں کی فہرست یوں ہے۔1. حکیم میاں جلال الدین لاہوری2. حکیم میاں رکن الدین3. حکیم میاں محمد رمضان4. حکیم میاں جوم علی5. حکیم میاں حسین علی6. حکیم میاں محمد رمضان7. حکیم میاں رکن بخش8. حکیم میاں فضل الحق9. حکیم میاں قمر الزمان سکلینیآج  ہماری جنجوعہ آرائیں فیملی صرف  جلہ جیم ہی آباد نہیں ہے،  بلکہ پاکستان کے مختلف حصوں میں نقل مکانی کر چکی ہے۔ میرے دادا جناب حکیم میاں قمر الزمان  کا تعارف میرے دادا کا نام حکیم میاں قمر الزمان تھا۔ وہ  خاکسار تحریک میں  کافی سرگرم رہے۔ 1931 ء میں علامہ عنایت اللہ مشرقی نے خاکسار تحریک  کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک  سماجی تحریک تھی جو لاہور سے شروع ہوئی اس کا بنیادی مقصد بھارت کو برطانوی سلطنت کے تسلط سے آزاد کروانا تھا۔ علامہ مشرقی نے 4 جولائی 1947  کو خاکسار تحریک تحلیل کر دی  کیوں کہ بھارت کے مسلمان نئی اسلامی ریاست یعنی پاکستان  کے حصول  کی کوششوں پر  زیادہ مطمئن اور پر امید نظر آتے تھے۔  ساتھ ہی خاکسار تحریک میں  مسلمانوں کی دلچسپی بھی کم ہو چکی تھی۔  حکیم میاں قمر الزمان خاکسار تحریک کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ میں سرگرم تھے۔ حکیم میاں قمر الزمان پاکستان کے قیام کے بعد  یونین جلہ جیم کے 2 دفعہ  چیئرمین بنے، پہلی ٹرم 1959 سے 1964 اور دوسری  ٹرم 1968 سے 1964 تھی۔

بطور چیئر مین حکیم میاں قمر الزمان کی اہم کامیابیاں

علاقہ کے فلاحی کاموں کے لیے 24 ایکڑز رقبہ کی فراہمی ممکن بنائی۔  جسے درج ذیل فلاحی کاموں کے لئے الاٹ کیا گیا۔1۔ 14 ایکڑ ز پر ہائی سکول کی تعمیر2۔ 3 ایکڑز پر یونن کونسل کی تعمیر3۔ 1 ایکڑ پر خدام القران 4۔ 1 ایکڑ پر ویٹرنری ہسپتال5۔ 2/1 ایکڑ پر گرلز سکول6۔ 2/1 ایکڑ پر کلب گھر7۔ 5 ایکڑز پر ہیلتھ سینڑ جلہ جیم انہوں نے 1938 میں فضل ربانیا کے نام سے ایک شفا خانہ  بھی قائم کیا، جس کا مقصد  علاقے کے غریب اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت کرنا تھا۔  مستحق مریضوں کو کھانا ، پینا ، رہنا اور ادویات وغیرہ  کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ جب تک وہ حیات رہے  کارِ خیر کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا۔  میرے والدِ محترم میاں عبدالسلام صاحب کا تعارف میرے والد کا نام میاں عبدالسلام ہے، انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری 1973 میں پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور ملتان بار سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔صاحبزادہ فاروق علی خان ایڈوکیٹ  (سابق سپیکر قومی اسمبلی پاکستان)، محمد بشیر خان ایڈوکیٹ (سابق وائس چئیر مین، پاکستان بار کونسل) چوہدری عبدالطیف فروز پوری ایڈوکیٹ  اور چوہدری پرویز آفتاب ایڈوکیٹ  سے پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کی۔  1974 میں وہ میلسی منتقل ہو گئے اور میلسی بار سے پریکٹس شروع کر دی۔  1989 میں انہوں نے میلسی بار ایسو سی ایشن کے الیکشن میں حصہ لیا اور بغیر مقابلے کے صدر منتخب ہوئے۔  حلف برداری کی تقریب  میں جسٹس ہائی کورٹ جناب محمد منیر خان نے بطور چیف گیسٹ  شرکت کی اور میاں عبدالسلام سے  بطور صدر  بار ایسوسی ایشن میلسی حلف لیا۔ دیگر معزز مہمانوں میں ریٹائرڈ چیف جسٹس ہائی کورٹ جناب سردار عبدالجبار خان اور ایکس سپیکر پاکستان نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان شامل تھے۔میاں عبدالسلام نے بطور صدر جن چیلنجز کو قبول کیا وہ درج ذیل تھے۔1۔ نوٹیفکیشن آف سیشن ڈویژن2۔  ججز کے لیے کورٹ رومز    اور رہائش  گاہوں کی فراہمی3۔ اے سی ہاؤس سے 8 کنال کی زمین کا حصول  اور اس سے کورٹس کمپلیکس کی توسیع 4۔  بار رومز، لائبریری، کیفے، ٹی وی لانج وغیرہ کی توسیع6۔ میلسی کے وکلا ء کے لیے رہائشی کالونی کا حصولانہوں نے بار روم اور لائبریری روم کو ایڈیشنل سیشن جج کے نئے کورٹ روم میں تبدیل کیا ۔ علاوہ ازیں ٹی ایم اے کے کلائنٹس شیڈ کو سول جج کے نئے کورٹ روم میں بدل دیا۔

             ستمبر 1989 میں، انہوں نے  سول جج میلسی چوہدری محمد یونس  ( جوبعد میں   بطور جج ہائی کورٹ لاہور ریٹائر ہوئے) کی کو آرڈینیشن  سےایک ترقیاتی سکیم تجویز کی اور اسے برائے منظوری چیف جسٹس ، ہائی کورٹ  لاہور کو بھیج دیا۔   اس سکیم  کے تحت سول ججز کے لئے 4 نئے کورٹ رومز اور سول ججز کے لیے  4  نئی رہائش گاہیں شامل تھیں۔ بعد میں  اس اسکیم کو مکمل طور پر چیف جسٹس ، ہائی کورٹ  لاہور کی طرف سے منظور کر لیا گیا۔

میاں عبدالسلام میلسی بار ایسوسی ایشن کے  6 دفعہ صدر منتخب ہوئے، 1989 کے بعد بلترتیب سال 1990، 1995، 1998، 2000 اور 2001    میں صدر رہے۔ بطور صدر انہوں نے بار ایسوسی ایشن میلسی میں  منعقد ہونے والے سینکڑوں پروگرامز  کی میزبانی کی اور چیف جسٹس، ہائی کورٹ، لاہور، کے علاوہ کئی سینئر ججوں کو مدعو کیا۔ سیاستدان اور سول سوسائٹی کی جانب سے  بھی کئی مہمانوں نے شرکت کی۔ضلع  کونسل سے بار ایسوسی ایشن میلسی  کے لئے  فنڈز کی فراہمی برائے تعمیر بار روم کمپلیکس ،  ہائی کورٹ  سے  فنڈز برائے تعمیر کورٹ کمپلیکس اور قیام گاہ برائے ججز،  چیمبرز، لائبریری،کینٹین اینڈ کیفیٹیریا کی  ڈیویلپمنٹ، ٹریننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروگرامز کا انعقاد،  بار اور بنچ کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ کے لئے ایکسپویر لیکچرز ، انصاف اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات ان کی اہم کاوشوں میں شامل ہیں۔  انہوں نے ہمیشہ سماجی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور کئی علاقائی بار ایسوسی ایشز اور سول سوسائٹیز کو اکھٹا کیا۔ میلسی وکلاء  رہائشی کالونی کے حصول کے لیے انہوں نے  تسلسل  کے ساتھ جدوجہد کی، جنوری 1990 ء میں انہوں نے میاں نواز شریف (جب وہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے) اور میاں شہباز شریف سے  ن لیگ سیکرٹریٹ ماڈل  ٹاؤن(لاہور) میں ملاقات کی اور تجویز جمع کروائی۔  اپریل 1998 ء میں میاں نواز شریف ( جب وہ پاکستان کے وزیر اعظم تھے)  میلسی کا دورہ کیا اور اس دوران  ملاقات میں انہوں نے ریلوے اور اوقاف اراضی سے رقبہ فراہم کرنے کا  وعدہ کیا۔اپنی  کالج کی زندگی سے ہی انہوں نے سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں  حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔  کالج کی سطح  پر ان کی سیاسی سر گرمیوں میں جو ساتھی شامل تھے ان تصدق حسین جیلانی (پاکستان کے سابق چیف جسٹس)، جاوید ہاشمی (سابق وفاقی وزیر اور مشہور قومی رہنما)، محسن نقوی (مشہور اردو شاعر)،اصغر ندیم سید (مشہور رائٹر اور پروفیسر)، وقار احمدقریشی (کنٹرولر امتحانات، بی زیڈ یو) اور ملک محمد ناظم(ریٹائرڈ تحصیل میونسپل آفیسر) وغیرہ شامل تھے۔نومبر 1968 ء میں انہوں نے پاکستان پیپلز  پارٹی کے ساتھ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا، انہوں نے ملتان  ائیر پورٹ پر  مورخہ 18 مارچ 1970 کو صاحبزادہ فاروق علی خان کی قیادت میں  ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی اور سوال کیا کہ آپ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا تے ہیں، آپ عوام کو صرف یہ بتا دیں کہ آپ خود کیا پہنیں گے، آپ خود کیا کھائیں گے اور آپ خود کس طرح کی رہائش میں رہنا پسند کریں گے۔ اگر آپ عوام کو صرف یہ بتا دیں کہ آپ کا  طرز بودوباش بطور حکمران کیسا ہو گا تو عوام کے دکھوں کا مداوا ہو جائے گا۔  ہمیں آج بھی اپنی سیاسی قیادت سے اسی سوال کا جواب چاہیے۔سماجی شعبے میں  “انجمن شہرانِ میلسی”  کے صدر رہے اور ” سول کلب میلسی ”   کا قیام کیا جس میں سول سوسائٹی اور اسسٹنٹ کمشنر کی مدد حاصل کی۔انہوں نے ان ڈور گیمز کے فروغ کے لیے سول کلب میں بطور جنرل سیکرٹری  بھی اپنی خدمات سر انجام دیں اور وکلاء، بینک آفیسرز، سرکاری حکام سمیت کاروبار ی اور سماجی حلقوں میں انڈور گیمز کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔انہیں سماجی، سیاسی، کاروباری اور وکلاء کے حلقوں میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں،  روزانہ کام کرتے ہیں، بے مثال قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، وہ  طویل مدتی تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔   ان کی باتیں حکمت اور دانائی سے بھر پور ہوتی ہیں، اسلامک لیکچرز اور سیاسی تقاریر سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔ سماجی مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں،  اردو ادب خاص طور پر اقبالیات پر کافی عبور حاصل ہے۔ تاریخ ِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے تقریباِِ ہر پہلو کو  جانتے ہیں۔  بچپن سے ہی انہیں اپنے والدین اور بزرگوں کا احترام اور خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہمیشہ پُر امید رہتے ہیں، مشکلات کا سامنا ڈٹ کر کرتے آئے ہیں۔ اپنے اصولوں پر کبھی بھی سودا نہیں کرتے۔

16۔ازدواجی حیثیت؟

میری شادی17 فروری  2009 کو ہوئی۔ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ، بیٹے کا نام میاں اسماعیل وقار ہے جس کی عمر 4 سال ہے اور بیٹی کا نام مریم وقار ہے جس کی عمر 3 سال ہے۔

17۔فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

میرے والد کا نام میاں عبدالسلام ہے وہ ایک تجربہ کار وکیل ہیں۔ میری والدہ  ہاؤس وائف ہیں، وہ زندگی میں ہر موقع میری حوصلہ افزائی کا ایک بڑا ذریعہ رہی ہیں۔  ہم  چاربھائی  ہیں ۔  بھائیوں اور والدین کی طرف سے ہمیشہ خاطر خواہ سپورٹ حاصل رہی ہے۔

18۔آج کل کہاں رہائش پزیر ہیں؟

میں آج کل سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم ہوں اور ایک سعودی گروپ جس کا نام  ال دوسر انٹرنیشنل کمپنی لمٹیڈ ہے اس میں بطور انٹرنیشنل مارکیٹنگ مینیجر اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہوں۔ ال دوسر گروپ کی 5 کمپنیاں ہیں جو کہ گذشتہ 30 سالوں سے سعودی عرب میں کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے امریکہ اور یورپ سے 100 سے زیادہ ٹریڈنگ پارٹنرز ہیں  ۔ زیادہ تر پارٹنرز کا تعلق کیمیکلز ،الیکٹرکل، مکینیکل، سول ، انسٹرومنٹل اورجدید کسٹم سلوشنز کی فیلڈز سے ہے۔

19۔بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

جب پہلی دفعہ قران پڑھا

جب میں نے پہلی دفعہ قران ترجمے کے ساتھ پڑھا، تو سوچ میں پڑ گیا کہ یہی قران تھا جسے پڑھ کر صحابہ روتے جاتے تھے، پھر یہ سوچا کہ مجھ پہ تو ایسی کیفیت آئی ہی نہیں، پھر یہی سوچ کر قران دوبارہ پڑھنا شروع کیا، پھر وہ پہلی آیت آ ہی گئ جس پر انتہا کی رقعت قائم ہوئی اور 45 منٹ تک میں اس آیت سے آگے نہیں بڑھ سکا:

پارہ نمبر 4، آیت نمبر 188، سورت ال عمران

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ١٨٨

آپ ہرگز خیال نہ کریں کہ جو لوگ اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان پر ان کی تعریف کی جائے ان کے بارے میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے چھوٹ گئے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

یہ الفاظ میرے کانوں سے گزرتے اور میرے ماضی اور حال کے حالات میرے سامنے گھومنے لگتے، اگر مجھے کبھی کسی نے دھوکہ دیا، تو اس کے پیچھے جھوٹی تعریفیں ہی نظر آئیں، اور پروفیشنل لائف میں بہتر سے بہترپراگرس کے لیے ہمیں یا اپنی کمپنی یا اپنے پراڈکٹس یا اپنی سروس کی خاطر خواہ تعریف کرنی یا کروانی پڑتی۔ میری زندگی کی فلاسفی کو بدلنے کے لیے یہ ایک آیت کافی تھی۔

میں اپنے آپ کو اسی دن سے مسلمان سمجھتا ہوں، اسلام کی روح کیا ہوتی ہے، اللہ کو یاد کیسے کیا جاتا ہے اس کے لیے رویا اور تڑپا کیسے جاتا ہے، میری ذات اس طرح کی کسی بھی کیفیت سے سطحی طور پر بھی نا واقف تھی۔

قران پڑھیئے، دنیا میں ہماری ذات کو جھنجوڑنے کے لیے اس سے بڑی اور کوئی چیز نہیں اتاری گئی! اسی لئے اسے مضبوطی سے پکڑنے کا حکم ہے۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے: کیا تمہیں پوری زندگی میں اتنا وقت نہیں ملا تھا، کہ ایک دفعہ قران پڑھ لیتے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو قران پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور اپنی ہدایت کے راستے پرثابت قدم رہنے کی طاقت بھی دے، امین۔

20۔ادبی سفر کے دواران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

مگرمیرا چاند روٹھ جاتا ہے!

ماڈل ٹاؤن لائبریری میں ادب سرائے کے ماہانہ مشاعرے میں، میں نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک کچھ یوں تھا

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

جب میں نے غزل پڑھ لی توایک سینئر مہمان شاعرہ نے کہا کہ بیٹا چاند سب کا سانجھا ہوتا ہے اور چاند کسی سے نہیں روٹھتا۔

ان کی بات پر میں نے جواب دیا کہ، آپ ٹھیک کہتی ہیں

“مگرمیرا چاند روٹھ جاتا ہے!

پوری غزل کچھ یوں تھی:

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

دل کی بازی میں تم سے ہار بیٹھا تھا
باز تو پھر بھی اے بازی گر نہیں آیا

دیارِ بے خبر سے ناداں کو میرا تجسس تھا
پر اِدھر بھولے سے بھی وہ بے خبر نہیں آیا

اُسے گلہ ہے میں نے بھلا دیا اُس کو
کیسے اُسے بتاﺅں کب اُس کا ذِکر نہیں آیا

تیرے بغیر در بدر کتنا چلیں گے اب وقار
ہم پہ ٹوٹا قہر جو تجھ کو نظر نہیں آیا

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا

21۔آپ کے پسندیدہ مصنفین؟

بہت سارے مصنفین کو ملنے، پڑھنے اور سننے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ بہت سا نیا پرانا ملا جلا کام نظر سے گذرتا رہتا ہے، بہت سارے لوگوں نے بہت اچھا کام کیا تھا، کر رہے ہیں اور کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے نام اتنے بڑے ہیں کہ اگر ان کا ذکر نہ کیا جائے تو ناانصافی  ہوگی جن میں  ضیاء محی الدین، اشفاق احمد، عمیرہ احمد، اوریا مقبول جان،  انور مقصود، انتظار حسین، فاطمہ ثریا بجیا، بانو قدسیہ، بشریٰ انصاری، فریال گوہر، محمد یونس بٹ، مستنصر حسين تارڑ، منصور آفاق، منو بھائی، رضیہ بٹ، نسیم حجازی اور سعادت حسن منٹو  جیسے بہت سے لوگ انتہائی نامور ہیں انہوں  اپنے آپ کو ہر سطح پر منوایا ہے۔ یہ تھوڑے سے نام ہے تمام ستاروں کی گنتی چند لائنز میں ممکن نہیں۔  مگر ایک تاریخ رقم کی جاچکی اور اور نئی تاریخ  رقم ہوتی نظر آ رہی ہے۔بدلتے وقت  سے ہم آہنگ بہت سا جدید کام بھی دیکھنے میں نظر آتا ہے  جو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت معلوم ہوتا ہے۔

22۔اخبارات یا رسائل سے وابستگی؟

ماہانہ و سالانہ لیٹریری و کمرشل میڈیا رپورٹس، لیٹریری و کمرشل ایونٹ نیوز، لیٹریری و کمرشل انٹرویوز، سپلیمنٹس، ایڈوٹائزنگ، آرٹیکلز، شاعری، ٹی وی ، ریڈیوز اینڈ نیوز پیپر سکریپٹس کی اشاعت اور براڈکاسٹنگ کے حوالے سے 150 سے زیادہ لوکل اور انٹرنیشل میڈیا  چینلز سے رابطہ رہا جن میں ریڈیو، نیوز پیپرز، ٹی وی ، میگزینز  اور مختلف آن لائن نیوز ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

23۔ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

ادبی حلقوں کا نقشہ : میں ویسے تو کبھی بھی گروپ بندیوں کا یا ادبی مخالفت کا کبھی بھی شکار نہیں ہوا، مگر اس کلچر کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔  ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کسی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ، تو ہم خوب مزے لے کر پڑھتے ہیں اور بار بار پڑھتے ہیں، لوگوں سے بڑھ بڑھ کر شئیر بھی کرتے ہیں، ہمارا خون ڈبل ہو جاتا ہے، جانے ہماری ذات کون سی تسکین پاتی ہے کہ ہماری روح تک سکون میں آ جاتی ہے، دراصل ہم اپنی شیطانی ہوس کو پورا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے اور محنت کرنے والوں کے حوصلوں کی دہجیاں اُڑا تے چلے ہیں اور اِس پر خوش بھی ہوتے ہیں۔ ادبی حلقوں کا نقشہ اس سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ اس طرح کے عمل  اور ردعمل سے ادب مفلوج ہو تا ہے اور کچھ لوگ اسے ادب کی خدمت سمجھتے ہیں۔ باہمی وقار ادب کی روح ہے،  وقار نہیں تو ادب بھی نہیں۔ ادبی سفر میں ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ باہمی عزت وقار برقرار رہے۔

24۔ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی ایک ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کی حیثت رکھتی ہے۔ ادب دکھی عوام کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ معاشرے کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے، عوامی مسائل کے حل وضع کرتا ہے، اچھی روایات کا تحفظ کرتا ہے، قومی ویلوز مضبوط کرتا ہے، باہمی ربط اور ہم آہنگی بڑھاتاہے ، معاشی و معاشرتی تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سماجی گراوٹ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ادب کے اثرات بچوں سے لے کر بڑوں تک سب میں نظر آتے ہیں، پڑھنے کو اچھا ملتا ہے، سننے کو اچھا ملتا ہے، دیکھنے کو اچھا ملتا ہے، جس سے لوگوں کے ذہنی تناؤ بھی کم ہوتے ہیں اور عوام میں شعور بھی بڑھتا ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ قوم ایک باشعور قوم بن کر سامنے آتی ہے۔

حکومتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ ہماری قوم ایک باشعور قوم میں تبدیل ہو کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ جس دن قوم میں شعور پیدا ہو گیا انہیں سیاست میں جگہ نہیں ملے گی۔

25۔اُردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی پیغام؟

اردو ادب سے وابستہ لوگوں سے سوال بھی ہے اور ایک پیغام بھی ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ عوامی شاعر کہاں گئے

جب ایوب خان کا دور آیا
تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے
یہ اس کا پاکستان ہے جو صدرِ پاکستان ہے

اقتدار ایوب خان سے جنرل یحییٰ خان کو منتقل ہوا تو حبیب جالب نے اُن کو بھی اسی لب ولہجے سے مخاطب کیا کہ
تم سے پہلے وہ جواک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اُس کوبھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

حبیب جالب کا بھٹو کو “خراج تحسین”

میں قائد عوام ہوں
جتنے میرے وزیر ہیں سارے ہی بے ضمیر ہیں
میں انکا بھی امام ہوں میں قائد عوام ہوں

جنرل ضیاء الحق کا دور آیا تو حبیب جالب نے نئے آمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
ظلمت کو ضیاء صرصر کو صبا،بندے کو خدا کیا لکھنا
اس ظلم وستم کو لطف وکرم اس دکھ کو دوا کیا لکھنا

آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالب صاحب کو کہنا پڑا
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

بے نظیر کے بعد نوازشریف کا دور شروع ہوا اور اُنہوں نے عوام کے لئے اپنے بلند بانگ دعوے شروع کئے تو عوامی شاعر بیماریوں کی پوٹ بن گئے تھے مگر اُن سے رہا نہ گیا ۔ میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں عوام کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا مشہور بیان دیا تھا جس پر جالب نے کہا کہ

نہ جاں دے دو، نہ دل دے دو
بس اپنی ایک مل دے دو
زیاں جو کرچکے ہو قوم کا
تم اس کا بل دے دو
حبیب جالب

ظلم کے خلاف لکھنے کی روایات کم ہوتی جا رہی ہیں،  سسکیاں لیتی ہوئی عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

26۔ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

لکھنے والوں کی اگر پڑھنے والوں تک رسائی نہ ہو تو لکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، ہمارے دور کی زندہ تحریریں  اپنے قلم کار کے ساتھ جیتے جی دفن ہو جاتی ہیں کیوں کہ ان کی رسائی پڑھنے والوں تک نہیں ہوتی۔  آپ لوگوں کے کام کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ نے نئے دور کے ادب میں نئی روح پھونک دی ہے۔ آپ اپنے حصے کا کام باخوبی کر رہے ہیں، آپ لوگوں نے بہت اچھی روایت ڈالی ہے اس کام کو آگے بڑھنا چاہیے۔ آپ لوگوں کی ویب سائیٹ بھی اپنے منفرد کام کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے اور آپ کا ادبی ناشتہ تو ملک بھرمیں مشہور ہے۔ اس طرح کی تبدیلی ادب کی دنیا میں  امید کی کرن نظر آتی ہے ۔ آپ کے کام کا آغاز بہت اچھا ہے۔ اس کام کو ہر سطح ہر پھیلانے کی ضرورت ہے۔

27۔پہچان شعر یا تحریر؟

الف: پہچان تحریر

قرانِ مجید کا بہترین شاہکار

میری ناقص عقل جس چیز کو قرانِ مجید کا بہترین شاہکارسمجھنے پر آمادہ ہے, میں اسے دوستوں سے ضرور شئیر کرنا چاہوں گا۔  قرانِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر طرح طرح کے مناظرے کئے ہیں، خاص طور پر جب محشر کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدانِ محشر کر طرف لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قران میں ہر جماعت کے معاملات بیان کئے ہیں، ان جماعتوں میں ایک گناہ گار جماعت شامل ہے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، ایک دوسری جماعت جو پرہز گاروں کی ہو گی جن کے چہرے روشن ہوں گے اور ایک تیسری جماعت جو سب سے آگے بڑھ جانے والی جماعت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان جماعتوں کے  آپس میں بحث و تکرار کو بھی قلم بند کیا ہے ۔ یہ بحث و مباحثہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

اور جب وہ دوزخ کو اپنے سامنے دیکھ لیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں ڈالے جانے والے ہیں تو ہرگناہ گار جماعت طرح طرح کے عذر پیش کرے گی تاکہ کسی نہ کسی طرح دوزخ کے عذاب سے بچ جائے۔ ایک جماعت کہے گی کہ یا اللہ یہ ہمارے بڑے ، ہمارے عالم، ہمارے حکمران، ہمارے آباؤ اجداد، دوست احباب خواہ کوئی بھی جماعت جس نے ان کو بہکایا ہوگا وہ اس کے بارے میں کہیں گے کہ انہیں دوگنا عذاب دیا جائے کیوں کہ انہوں نے ان کی زندگی اور آخرت تباہ کر دی۔ اللہ فرمائے گا کہ ان کو بھی دگنا عذاب اور تم کو بھی دگنا عذاب تم عقل نہیں رکھتے تھے۔ یوں ہر جماعت اس طرح کے عذر قبول نہیں کئے جائیں گے۔

ایک اور جماعت کہے گی کہ یا اللہ ہم سے ہماری زمینیں، جائیدادیں، جاگیریں، سونا وچاندی، کاروبار، بال، بچے اور اہل خانہ خواہ جو کچھ بھی ان کی ملکیت ہو وہ سب لے لیا جائے اور کسی طرح ان کی جان بخشی کر دی جائے۔ اس دن صرف اعمال کے سودے ہوں گے اور کسی سے ان کی ملکیت کا کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ایک اور جماعت یہ کہے گی کہ یا اللہ اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں جانا نصیب ہو تو ہم بھی نیک اعمال کریں اور گمراہوں میں نہ ہوں۔ تو ان کی یہ درخواست بھی رد کر دی جائے گی۔ ایک اور جماعت یہ کہے گی کہ یا اللہ ہمیں تو شیطان نے گمراہ کر دیا تھا، تو شیطان جواب دے گا کہ یا اللہ مجھ میں طاقت نہ تھی کہ ان سے کوئی گناہ کروا سکتا میں انہیں دور سے بلاتا تھا اور یہ خود ہی دوڑے چلے آتے تھے۔ تو اس جماعت کا یہ عذر بھی جاتا رہے گا۔یہاں تک کہ ہر گناہ گار جماعت کے ہر طرح کے عذر ان کو واپس کر دیے جائیں گےاور گناہ گار انسان یا جماعت کے ہاتھ میں صرف مایوسی اور بے بسی ہی رہ جائے گی۔

اب گناہ گار انسان یا جماعت کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب سارے عذر ختم ہو گئے ہیں اور بچنے کی کوئی تدبیر باقی نہیں رہی اور اب اس کا ٹھکانہ صرف دوزخ ہے ۔ اور جب دوزخ کے داروغہ انہیں دوزخ کی طرف ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے، اور ان کے چہروں پر رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اور ان کے دل اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سے پھر ہم کلام ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس وقت تمہاری ذات جس قدر بیزار ہو رہی ہے کہ دوزخ میں ڈالی جائے گی، اللہ کی ذات اس سے کئی گناہ زیادہ بیزار ہوتی تھی جب تمہیں ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کی راہ اختیار کیاکرتے تھے۔

تصنیف:  بیسٹ لائف نوٹس

مصنف و مرتب : میاں وقارالاسلام
جلد: 1

ب: پہچان حمد

حمد باری تعالی

پھیلا ہوا ہے چار سُو یہ رَب کا نور ہے
میں کیا ہوں مجھ کو کس لئیے خود پر غرور ہے

مجھ بے خبر کو آج تک اپنی خبر نہیں
میرے لہو میں دوڑتا رَب کا شعور ہے

حیراں ہے عقل اُس کی عطاﺅں پہ ہر گھڑی
یوں نعمتوں میں بھر دیا رَب نے سرور ہے

رُوشن کتاب خیر و بقاءکی نوید ہے
بے علم اِس کی رحمتوں سے کتنا دور ہے

بدکار ، گناہگار پہ اپنا فضل کیا
توبہ کے در پہ ہوں کھڑا کہ وہ غفور ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا

حمد باری تعالی

زباں ذکرِ الہی سے کبھی خالی نہیں ہوتی
ہوں جیسے بھی مرے حالات بدحالی نہیں ہوتی

یہاں زندہ دلوں پر ہی تو خوشیاں راج کرتی ہیں
اگر چھائی ہو مایوسی تو خوشحالی نہیں ہوتی

کبھی مردہ دلوں کی حسرتیں پوری نہیں ہوتیں
مگر ایمانِ کامل سے بداعمالی نہیں ہوتی

اگر منزل ہی باطل ہو ڈگر سیدھی نہیں ہوتی
مسافت راہِ حق پر ہو تو پامالی نہیں ہوتی

یہاں نظرِ جہاں دیدہ بہت مسرور ہوتی ہے
بدل ڈالے اگر دل سمت ہریالی نہیں ہوتی

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

شاید عمل یہ میرا پسندیدہ نہیں ہے
مایوسیوں سے آنکھ یہ نم دیدہ نہیں ہے

میں کیسے بڑھوں آگے نظر کچھ نہیں آتا
اندھی ہے عقل کیونکہ جہاں دیدہ نہیں ہے

نظریں چرا کے یاں سے چاہوں گا میں گزرنا
رب سے یہ جانو کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں ہے

عاصی نے بھی اپنے پر ہیں ظلم بہت ڈھائے
اور اپنے کیے پر بھی رنجیدہ نہیں ہے

توبہ تو کر لی ڈر کر رب سے وقار تو نے
لگتا ہے تیرا دل تو سنجیدہ نہیں ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے شکر پہ نہ جا مولا
میرا شکر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے صبر پہ نہ جا مولا
میرا صبر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے ذکر پہ نہ جا مولا
میرا ذکر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میری نذر پہ نہ جا مولا
میری نذر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میری فکر پہ نہ جا مولا
میری فکر ہے ہی کیا مولا

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

چاہا ہم نے سورج کو بھی
چاند سے ہم نے الفت کی ہے

عکس خدا کا ہر ذرے میں
ذروں نے بھی عبادت کی ہے

حیا پروئی ہے نظروں میں
ہر انسان کی عزت کی ہے

اہل وفا سے دنیا بھر کے
ہر باسی نے شرارت کی ہے

رب سے پیار کیا ہے جس نے
اس نے سب سے محبت کی ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: سوزِ محشر

ب: پہچان  غزلیں

اُبھرتے سورج کا سلام تیرے نام کر دیتا
دن کے سارے تام جھام تیرے نام کر دیتا

سردیوں کی دھوپ ساری گرمیوں کی چھاﺅں بھی
موسموں کی سرد شام تیرے نام کر دیتا

اختیار ہوتا گر اس بہار پر میرا
رنگ و بو کے انتظام تیرے نام کر دیتا

دل کی کیفیت کو میں جب بیان کر سکتا
حسرتوں کے سب کلام تیرے نام کر دیتا

قید میں جو کر سکتا ان حسین لمحوں کو
آنے والے سب ایام تیرے نام کر دیتا

شاعر: میاں وقارالاسلام

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

دل کی بازی میں تم سے ہار بیٹھا تھا
باز تو پھر بھی اے بازی گر نہیں آیا

دیارِ بے خبر سے ناداں کو میرا تجسس تھا
پر اِدھر بھولے سے بھی وہ بے خبر نہیں آیا

اُسے گلہ ہے میں نے بھلا دیا اُس کو
کیسے اُسے بتاﺅں کب اُس کا ذِکر نہیں آیا

تیرے بغیر در بدر کتنا چلیں گے اب وقار
ہم پہ ٹوٹا قہر جو تجھ کو نظر نہیں آیا

شاعر: میاں وقارالاسلام

یہ جدائی تو بہت مشکل ہے
میرے ہمدم ترے وصال کے بعد

سال گذرا ہے سال گذرے گا
تم تو آﺅ گے ایک سال کے بعد

میری آنکھیں تو بھیگ جاتی ہیں
پھر سے تیرے حسیں خیال کے بعد

دوستی کی مثال کیسے دوں
میرے ہمدم تری مثال کے بعد

میرے سارے جواب ہار گئے
ترے اک لاجواب سوال کے بعد

شاعر: میاں وقارالاسلام

کیسی زمیں کیسا آسماں یارب
عجب حیرت کا مکاں یارب

کوئی تو ہے فرشتہ یہاں
اور کوئی ہے شیطاں یارب

دل اسی بات کو سمجھ نہ سکا
کسے کہتے ہیں انساں یارب

یوں تو انسان نے ترقی کی
اور ہوتا گیا حیواں یارب

مجھے وہ قوتِ گویائی دے
جو ہو تیری بھی ترجماں یارب

شاعر: میاں وقارالاسلام

اُس کی آنکھوں پہ کیا کہا جائے
اُس کے ہونٹوں پہ کیا لکھا جائے

وہ تو ہے زندہ غزل کی صورت
اُس کے بارے میں کیا کہا جائے

اور کبھی بیٹھ کر اکیلے میں
اُس کی آواز کو سنا جائے

وہ اچھوتا خیال ہے اُس کو
خواب طرح سے بُنا جائے

یا کبھی دستِ دعا پھیلا کر کر
واسطے اپنے ہی مانگا جائے

شاعر: میاں وقارالاسلام

آسماں سر پہ کھڑا ہو جیسے
شہر ویران پڑا ہو جیسے

سر نگوں اس طرح ہے سارا نگر
کوئی احسان گڑا ہو جیسے

زندگی ایسا اک نگینہ ہے
دل مفلس میں جڑا ہو جیسے

اس طرح تجھ کو ہے محسوس کیا
تو میرے ساتھ کھڑا ہو جیسے

ایسا احساس دلاتا ہے بشر
سب فرشتوں سے بڑا ہو جیسے

شاعر: میاں وقارالاسلام

چند روز اپنی تم سے جو قربت نہیں رہی
تم سمجھے یہ کہ مجھ کو محبت نہیں رہی

گہرا ہے رگ و جان سے رشتہ تجھ سے
سوچا بھی کیسے تم نے کہ اُلفت نہیں رہی

اِس گردشِ دوراں نے چکرا دیا مجھے
اور مجھ میں سنبھل جانے کی طاقت نہیں رہی

کیا شام ڈھل گئی کسی سائے کی طرح سے
یا دوستوں کو میری ضرورت نہیں رہی

دھاگوں سے زیادہ نازک رشتے ہیں اپنے دل کے
اُلجھے تو اِن کی پہلی سی صورت نہیں رہی

شاعر: میاں وقارالاسلام

تم میری محبت ہو میری سزا نہیں ہو
اک بار کہہ دو مجھ سے کہ تم خفا نہیں ہو

تیرا خیال میری راتوں کا ہمسفر ہے
ان رت جگوں سے پوچھو کہ تم تنہا نہیں ہو

میں تیرے بعد کتنا بے آسرا ہوا ہوں
اپنے ہی دل سے پوچھو تم بے آسرا نہیں ہو

اس بے رخی پہ میری تم بھی تو روٹھتے ہو
پرواہ نہیں جو مجھ کو تم بے پرواہ نہیں ہو

مانا خطائیں میری بے حد شمار ہوں گی
میں بھی نہیں فرشتہ تم بھی خدا نہیں ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام

بتائیں یہ کیسے کہ جذبات کیا ہیں
زباں پہ یہ اٹکی ہوئی اک صدا ہیں

یہ قطرے جو پلکوں پہ ٹھہرے ہوئے ہیں
مسلسل مرے ضبط کی انتہا ہیں

مجھے مثلِ شمع جلاتی ہیں شامیں
یہ دن ہجر کے بھی صبر آزما ہیں

جھکائیں جو پلکیں تو میں نے یہ دیکھا
کوئی بھی نہیں آپ جلوہ نما ہیں

مری شعر گوئی ہے ذکرِ مسلسل
نمازیں مری تیرے حق میں دعا ہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

ذہنوں کو نئی سوچ نرالے خیال دے
یہ شہر داغ دار ہے اِس کو اُجال دے

کیوں قوم بھول بیٹھی ہے اپنی اَساس کو
فرعونیت کو سب کے دلوں سے نکال دے

اِس نے بھلا دیے سبھی افکار اور ہنر
یہ قوم لازوال ہے اِس کو کمال دے

کامل تھا تیرا دین ہے گیا عاملوں کے ہاتھ
بوجہل کو ہمارے سروں سے تو ٹال دے

جانے کیوں لےاُڑی ہے خزاں موسمِ بہار
پھولوں سے خوشبیوں سے چمن کو جمال دے

شاعر: میاں وقارالاسلام

شام و سحر پہ میرے حصے لکھے ہوئے ہیں
ڈھلتے لمحوں پہ میرے قصے لکھے ہوئے ہیں

میرا حال و ماضی میں نے لکھا ہے
باقی افسانوں کے عرصے لکھے ہوئے ہیں

میری غزلیں میرے من کے قصے ہیں
غم جو بھلائے پھر سے لکھے ہوئے ہیں

مردہ دلوں کی آنکھ میں آنسو کب آتے ہیں
سوکھا میرا دامن برسے لکھے ہوئے ہیں

میری زمین بھی مجھ کو کتنا کھا پائے گی
سارے بدن پہ میرے ورثے لکھے ہوئے ہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

ت: پہچان  نظمیں

بس اتنی دعا ہے میری
سینے میں غم برابر نہیں
چشمِ پُرنم برابر نہیں
بس اتنی دعا ہے میری
جب اشک پیمانے کھلیں
تم پہ صبر دھانے کھلیں
تم آنسو ﺅں کو پی سکو
تم غموں میں جی سکو

کون غموں سے ابتر نہیں
زندگی پھولوں کا بستر نہیں
پھرسے جینے کا راستہ دے
خدا یا باقی سفر آراستہ دے

بس اتنی دعا ہے میری

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

دل آج بھی مقروض ہے

ریت کے گھروندوں کا
ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا
کاغظ کے بیڑوں کا
بارش کے ریلوں کا

دل آج بھی مقروض ہے
دل آج بھی مقروض ہے

چمکتے ہوئے جگنوﺅں کا
رنگ برنگی تتلیوں کا
کمسن کھلتی کلیوں کا
نِت نئی بہاروں کا

دل آج بھی مقروض ہے

کچے پکے خوابوں کا
بھولی بسری یادوں کا
کٹھی میٹھی باتوں کا
بے نام رشتوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

دل آج بھی مقروض ہے

بن مانگی دعاﺅں کا
تسلسل سے عطاﺅں کا
بے بہا رحمتوں کا
بے شمار نعمتوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

آنکھوںکے سمندر کا
اُمنڈتے قیمتی اشکوں کا
چھلکتے انمول موتیوں کا
بھیگتے کانپتے ہونٹوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

دل آج بھی مقروض ہے

ماں کی محبت کا
باپ کی شفقت کا
بے پناہ اُلفت کا
دونوں کی عظمت کا

دل آج بھی مقروض ہے

ہر روز کی خطاﺅں کا
چھوٹی موٹی سزاﺅں کا
ہلکی پھلکی آہوں کا
محفوظ پناہوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

دل آج بھی مقروض ہے

اُلٹے پھلٹے لفظوں کا
ٹوٹے پھوٹے شعروں کا
ٹیری میڑی باتوں کا
بے عنوان تحریروں کا

دل آج بھی مقروض ہے

کاغذ میں لپٹے خیالوں کا
پل میں گزرے سالوں کا
سوزِعشق کے احوالوں کا
دل میں پھوٹے چھالوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

تم شاعری سمجھتے ہو

اپنے احساسات کو
تحریر کیا ہے
میں نے جذبوں کو
الفاظ پہنائے ہیں
تم شاعری سمجھتے ہو
میں خوشبو کی طرح
بکھرا بھی ہوں
میں نے پھولوں سے
رنگ چرائے ہیں
تم شاعری سمجھتے ہو
ساون کی طرح
برسا بھی ہوں
ویران آنکھوں میں
آنسو سجائے ہیں
تم شاعری سمجھتے ہو
شمع کی طرح
دل جلایا ہے
پروانوں کی طرح
پرجلائے ہیں
تم شاعری سمجھتے ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

چشمِ آوارہ
اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
یہ زیرِ جوبن
پڑی مدھوشیاں
یہ َادا میں اُمنڈتی شوخیاں
یہ مغرور سی طبیعت
لڑکھڑاتے ڈگمگاتے
بے سہارا
جذبوں کی لہر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
یونہی چلتے پھرتے
کسی دن
شام کے وقت
سوچ کی وادیوں میں
کہیں
مجھے دیکھ کے
چونکے گی
پچھلے پہر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
اے حسرتِ دلِ ناداں
تجھے بَر آنا ہے
تو اُٹھ جا
حالات سے لڑنا سیکھ
یہ داستان عشق بھی
رواج کے بھنور میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
ہاں اور ناں کی
زنجیر سے تم
باندھے رکھنا خیالوں کو
زندگی اسی کشمکش
کی زِیر و زَبر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا

محور تم ہو
جام ساغرِ حیات کی
سبھی لہروں بحروں کا
محور تم ہو
نشیب سے فراز تلک تم
رواں جھرنوں کا
محور تم ہو
مانندِ مہتابِ شبِ روشن تم
اور تیرا وصالِ جاں نثار
من کے سمندر میں
اُمنڈتے ہوئے طوفانوں کا
محور تم ہو
چنچل سی کہکشائیں
جب پھیلاتی ہیں
فلک پہ عروسی آنچل
گھٹا کے چلمن سے جھانکتے
اَنگنت ستاروں کا
محور تم ہو
مانندِ شمعِ فروزاں تیرا طلسم
اور محفلِ شب ِ غارت
جلتے ہوئے پروانوں کی
پتھرائی ہوئی آنکھوں کا
محور تم ہو
دل کی دھڑکنیں چلتی ہیں
جن مداروں پہ
تھم تھم کر
اُن اُونچے نیچے
ٹیڑھے میڑھے
راستوں کا
محور تم ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا